میرے مولا کرم ہو کرم
تجھ سے فریاد کرتے ہیں ہم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
یہ زمیں اور یہ آسما
تیرے قبضے میں ہیں دو جہاں
سب پہ تو ہی تو ہے مہرباں
ہم تیرے در سے جائے کہاں
سب کی سنتا ہے تو ہی صدا
تو ہی رکھتا ہے سب کا بھرم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
بے کسوں کو سہارا ملے
ڈوبتوں کو کنارا ملے
سر سے طوفان پل میں ٹلے
جو تیرا یک اشارا ملے
تو جو کر دے مہربانیاں
دور ہو جائے ہر ایک غم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
حالیہ پوسٹیں
- توانائی نہیں صدمہ اُٹھانے کی ذرا باقی
- نبی اللہ نبی اللہ جپدے رہوو
- نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا
- محمد مظہر کامل ہے حق کی شان عزت کا
- طیبہ کی ہے یاد آئی اب اشک بہانے دو
- سن لو خدا کے واسطے اپنے گدا کی عرض
- بڑی مشکل یہ ہے جب لب پہ تیرا ذکر آتا ہے
- خزاں کی شام کو صبحِ بہار تُو نے کیا
- فلک کے نظارو زمیں کی بہارو سب عیدیں مناؤ حضور آ گئے ہیں
- دل مِرا دنیا پہ شیدا ہو گیا
- ہے کلام ِ الٰہی میں شمس و ضحٰے
- میرے نبی پیارے نبی ؑ ہے مرتبہ بالا تیرا
- جاں بلب ہوں آ مری جاں الغیاث
- ہتھ بنھ کے میں ترلے پانواں مینوں سد لو مدینے آقا
- دیس عرب کے چاند سہانے رکھ لو اپنے قدموں میں
- جو ہوچکا ہے جو ہوگا حضور جانتے ہیں
- جس کو کہتے ہیں قیامت حشر جس کا نام ہے
- صدائیں درودوں کی آتی رہیں گی میرا سن کے دل شاد ہوتا رہے گا
- روک لیتی ہے آپ کی نسبت تیر جتنے بھی ہم پہ چلتے ہیں
- گل ا ز رخت آمو ختہ نازک بدنی را بدنی را