میرے مولا کرم ہو کرم
تجھ سے فریاد کرتے ہیں ہم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
یہ زمیں اور یہ آسما
تیرے قبضے میں ہیں دو جہاں
سب پہ تو ہی تو ہے مہرباں
ہم تیرے در سے جائے کہاں
سب کی سنتا ہے تو ہی صدا
تو ہی رکھتا ہے سب کا بھرم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
بے کسوں کو سہارا ملے
ڈوبتوں کو کنارا ملے
سر سے طوفان پل میں ٹلے
جو تیرا یک اشارا ملے
تو جو کر دے مہربانیاں
دور ہو جائے ہر ایک غم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
حالیہ پوسٹیں
- تمہارے ذرے کے پرتو ستار ہائے فلک
- خندہ پیشانی سے ہر صدمہ اُٹھاتے ہیں حسین
- صدائیں درودوں کی آتی رہیں گی میرا سن کے دل شاد ہوتا رہے گا
- کبھی ان کی خدمت میں جا کے تودیکھو
- دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
- یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
- امام المرسلیں آئے
- سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی
- ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
- جو گزریاں طیبہ نگری وچ او گھڑیاں مینوں بھلدیاں نئیں
- ہو اگر مدحِ کفِ پا سے منور کاغذ
- لحد میں عشقِ رُخِ شہ کا داغ لے کے چلے
- جنہاں نوں اے نسبت او تھاواں تے ویکھو
- پل سے اتارو ، راہ گزر کو خبر نہ ہو
- مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے
- جو ہر شے کی حقیقت ہے جو پنہاں ہے حقیقت میں
- مصطفیٰ جان ِ رحمت پہ لاکھوں سلام
- نبی اللہ نبی اللہ جپدے رہوو
- ساقیا کیوں آج رِندوں پر ہے تو نا مہرباں
- کیونکر نہ میرے دل میں ہو الفت رسول کی