میرے مولا کرم ہو کرم
تجھ سے فریاد کرتے ہیں ہم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
یہ زمیں اور یہ آسما
تیرے قبضے میں ہیں دو جہاں
سب پہ تو ہی تو ہے مہرباں
ہم تیرے در سے جائے کہاں
سب کی سنتا ہے تو ہی صدا
تو ہی رکھتا ہے سب کا بھرم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
بے کسوں کو سہارا ملے
ڈوبتوں کو کنارا ملے
سر سے طوفان پل میں ٹلے
جو تیرا یک اشارا ملے
تو جو کر دے مہربانیاں
دور ہو جائے ہر ایک غم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
حالیہ پوسٹیں
- عجب کرم شہ والا تبار کرتے ہیں
- جاتے ہیں سوے مدینہ گھر سے ہم
- جو نور بار ہوا آفتابِ حسنِ ملیح
- میرے مولا کرم کر دے
- کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج
- سب کچھ ہے خدا،اُس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
- جب سے ان کی گلی کا گدا ہو گیا
- پوچھتے کیا ہو مدینے سے میں کیا لایا ہوں
- پھر کرم ہو گیا میں مدینے چلا
- دل میں بس گئے یارو طیبہ کے نظارے ہیں
- زمین و زماں تمہارے لئے ، مکین و مکاں تمہارے لیے
- ہم مدینے سے اللہ کیوں آگئے
- مدینے کا شاہ سب جہانوں کا مالک
- نبی اللہ نبی اللہ جپدے رہوو
- لو آگئے میداں میں وفادارِ صحابہ
- اﷲ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا
- جو ہوچکا ہے جو ہوگا حضور جانتے ہیں
- جس کو کہتے ہیں قیامت حشر جس کا نام ہے
- غم ہو گئے بے شمار آقا
- ہے کلامِ الٰہی میں شمس و ضحی ترے چہرہ ءِ نور فزا کی قسم