میرے مولا کرم ہو کرم
تجھ سے فریاد کرتے ہیں ہم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
یہ زمیں اور یہ آسما
تیرے قبضے میں ہیں دو جہاں
سب پہ تو ہی تو ہے مہرباں
ہم تیرے در سے جائے کہاں
سب کی سنتا ہے تو ہی صدا
تو ہی رکھتا ہے سب کا بھرم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
بے کسوں کو سہارا ملے
ڈوبتوں کو کنارا ملے
سر سے طوفان پل میں ٹلے
جو تیرا یک اشارا ملے
تو جو کر دے مہربانیاں
دور ہو جائے ہر ایک غم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
حالیہ پوسٹیں
- شاہِ کونین کی ہر ادا نور ہے
- آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لئے
- رحمتِ حق ہے جلوہ فگن طیبہ کے بازاروں میں
- الٰہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہوں
- خوب نام محمد ھے اے مومنو
- میں کہاں اور تیری حمد کا مفہوم کہاں
- شہنشاہا حبیبا مدینہ دیا خیر منگناہاں میں تیری سرکار چوں
- کس کے جلوے کی جھلک ہے یہ اجالا کیا ہے
- نہ آسمان کو یوں سر کشیدہ ہونا تھا
- اٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ، کہ نور باری حجاب میں ہے
- ادھر بھی نگاہِ کرم یا محمد ! صدا دے رہے ہیں یہ در پر سوالی
- دیس عرب کے چاند سہانے رکھ لو اپنے قدموں میں
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا
- مل گئی دونوں عالم کی دولت ہاں درِ مصطفیٰ مل گیا ہے
- دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
- کیا مہکتے ہیں مہکنے والے
- اسیروں کے مشکل کشا غوث اعظم
- حالِ دل کس کو سنائیں آپ کے ہوتے ہوئے
- عکسِ روئے مصطفے سے ایسی زیبائی ملی