میرے مولا کرم ہو کرم
تجھ سے فریاد کرتے ہیں ہم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
یہ زمیں اور یہ آسما
تیرے قبضے میں ہیں دو جہاں
سب پہ تو ہی تو ہے مہرباں
ہم تیرے در سے جائے کہاں
سب کی سنتا ہے تو ہی صدا
تو ہی رکھتا ہے سب کا بھرم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
بے کسوں کو سہارا ملے
ڈوبتوں کو کنارا ملے
سر سے طوفان پل میں ٹلے
جو تیرا یک اشارا ملے
تو جو کر دے مہربانیاں
دور ہو جائے ہر ایک غم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
حالیہ پوسٹیں
- مدینے کی جانب یہ عاصی چلا ہے
- سحابِ رحمتِ باری ہے بارھویں تاریخ
- رُبا عیات
- بیبا عاشقاں دے رِیت تے رواج وکھرے
- نبی سَروَرِ ہر رسول و ولی ہے
- سلام اس ذاتِ اقدس پر سلام اس فخرِ دوراں پر
- یہ نہ پوچھو ملا ہمیں درِ خیرالورٰی سے کیا
- یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
- کیا مہکتے ہیں مہکنے والے
- صانع نے اِک باغ لگایا
- یہ کس نے پکارا محمد محمد بڑا لطف آیا سویرے سویرے
- دعا
- دونوں جہاں کا حسن مدینے کی دُھول ہے
- مجھے بھی مدینے بلا میرے مولا کرم کی تجلی دکھا میرے مولا
- سر تا بقدم ہے تن سلطان زمن پھول
- ہم تمہارے ہوکے کس کے پاس جائیں
- کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج
- یادِ وطن ستم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوں
- حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے
- کس کی مجال ہے کہ وہ حق تیرا ادا کرے