میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں
اپنے آقا کو میں نذر کیا دوں
اب تو آنکھوں میں بھی کچھ نہیں ہے
ورنہ قدموں میں آنکھیں بچھا دوں
میرے آنسو بہت قیمتی ہیں
ان سے وابستہ ہیں ان کی یادیں
ان کی منزل ہے خاکِ مدینہ
یہ گوہر یو ہی کیسے لٹا دوں
بے نگاہی پہ میری نا جائیں
دیداور میرے نزدیک آئیں
میں یہی سے مدینہ دیکھا دوں
دیکھنے کا قرینہ بتا دوں
میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں
حالیہ پوسٹیں
- نہ اِترائیں کیوں عاشقانِ محؐمد
- غم ہو گئے بے شمار آقا
- توانائی نہیں صدمہ اُٹھانے کی ذرا باقی
- پوچھتے کیا ہو عرش پر یوں گئے مصطفیٰ کہ یوں
- اے حبِّ وطن ساتھ نہ یوں سوے نجف جا
- خندہ پیشانی سے ہر صدمہ اُٹھاتے ہیں حسین
- قبلہ کا بھی کعبہ رُخِ نیکو نظر آیا
- ہو ورد صبح و مسا لا الہ الا اللہ
- وجہِ تخلیقِ دو عالم، عالم آرا ہو گیا
- راتیں بھی مدینے کی باتیں بھی مدینے کی
- خوشی سب ہی مناتے ہیں میرے سرکار آتے ہیں
- ترے دَر پہ ساجد ہیں شاہانِ عالم
- بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر کا
- جس کو کہتے ہیں قیامت حشر جس کا نام ہے
- ہے پاک رُتبہ فکر سے اُس بے نیاز کا
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- ہو اگر مدحِ کفِ پا سے منور کاغذ
- پل سے اتارو ، راہ گزر کو خبر نہ ہو
- ہم تمہارے ہوکے کس کے پاس جائیں
- مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ