میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں
اپنے آقا کو میں نذر کیا دوں
اب تو آنکھوں میں بھی کچھ نہیں ہے
ورنہ قدموں میں آنکھیں بچھا دوں
میرے آنسو بہت قیمتی ہیں
ان سے وابستہ ہیں ان کی یادیں
ان کی منزل ہے خاکِ مدینہ
یہ گوہر یو ہی کیسے لٹا دوں
بے نگاہی پہ میری نا جائیں
دیداور میرے نزدیک آئیں
میں یہی سے مدینہ دیکھا دوں
دیکھنے کا قرینہ بتا دوں
میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں
حالیہ پوسٹیں
- اپنی رحمت کے سمندر میں اُتر جانے دے
- دل رہ گیا ہے احمدِ مختار کی گلی میں
- شبنم میں شراروں میں گلشن کی بہاروں میں
- فلک کے نظارو زمیں کی بہارو سب عیدیں مناؤ حضور آ گئے ہیں
- ہتھ بنھ کے میں ترلے پانواں مینوں سد لو مدینے آقا
- شجرہ نصب نبی اکرم محمد صلی اللہ وسلم
- الصُّبْحُ بدَا مِنْ طَلْعَتِہ
- بس میرا ماہی صل علیٰ
- کیا جھومتے پھرتے ہیں مے خوار مدینے میں
- مصطفیٰ جان ِ رحمت پہ لاکھوں سلام
- صدائیں درودوں کی آتی رہیں گی میرا سن کے دل شاد ہوتا رہے گا
- بندہ ملنے کو قریبِ حضرتِ قادر گیا
- مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ
- بارہ ربیع الاول كے دن ابرِ بہارا چھائے
- نہ زر نہ ہی جاہ و حشم کی طلب ہے
- تلو مونی علی ذنب عظیم
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺍﻣﺎﻥ ﺷﻔﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎﺋﮯ ﺭﮐﮭﻨﺎ
- اے عشقِ نبی میرے دل میں بھی سما جانا
- میں تو پنجتن کا غلام ہوں میں مرید خیرالانام ہوں