میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں
اپنے آقا کو میں نذر کیا دوں
اب تو آنکھوں میں بھی کچھ نہیں ہے
ورنہ قدموں میں آنکھیں بچھا دوں
میرے آنسو بہت قیمتی ہیں
ان سے وابستہ ہیں ان کی یادیں
ان کی منزل ہے خاکِ مدینہ
یہ گوہر یو ہی کیسے لٹا دوں
بے نگاہی پہ میری نا جائیں
دیداور میرے نزدیک آئیں
میں یہی سے مدینہ دیکھا دوں
دیکھنے کا قرینہ بتا دوں
میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں
حالیہ پوسٹیں
- ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
- سب دواروں سے بڑا شاہا دوارا تیرا
- اب میری نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی
- میں کہاں پہنچ گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- ہے کلامِ الٰہی میں شمس و ضحی ترے چہرہ ءِ نور فزا کی قسم
- میرے مولا کرم ہو کرم
- طور نے تو خوب دیکھا جلوۂ شان جمال
- لو آگئے میداں میں وفادارِ صحابہ
- نامِ نبیؐ تو وردِ زباں ہے ناؤ مگر منجدھار میں ہے
- لو مدینے کی تجلی سے لگائے ہوئے ہیں
- میں تو پنجتن کا غلام ہوں میں مرید خیرالانام ہوں
- کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے
- واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا
- تُو کجا من کجا
- خراب حال کیا دِل کو پُر ملال کیا
- فلک کے نظارو زمیں کی بہارو سب عیدیں مناؤ حضور آ گئے ہیں
- کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
- میں بھی روزے رکھوں گا یا اللہ توفیق دے
- عارضِ شمس و قمر سے بھی ہیں انور ایڑیاں