نہ زر نہ ہی جاہ و حشم کی طلب ہے
کریم آقا تیرے کرم کی طلب ہے
مدینے میں مِل جائے چھوٹی سی کُٹیا
نہ جنت نہ لوح و قلم کی طلب ہے
میری عیب پوشی سدا کرتے رہنا
کبھی جو نہ ٹوٹے بھرم کی طلب ہے
مصائب سے ایمان مضبوط تر ہو
ہاں شیرِ خدا کے عزم کی طلب ہے
تیری یاد میں جو ہمیشہ رہے نم
مجھے شاہا ایسی چشم کی طلب ہے
جو میرے عشق کو جِلا بخش دیوے
میرے دل کو ایسے ستم کی طلب ہے
میرے جُرم و عصیاں ہیں ان گِنت مولا
تیری بارگاہ سے رحم کی طلب ہے
جو غفلت کی نیندوں سے دل کو جگا دے
مجھے اس نگاہِ کرم کی طلب ہے
نہ زر نہ ہی جاہ و حشم کی طلب ہے
حالیہ پوسٹیں
- آئینہ بھی آئینے میں منظر بھی اُسی کا
- سیف الملوک
- نارِ دوزخ کو چمن کردے بہارِ عارض
- مدینے کا شاہ سب جہانوں کا مالک
- چلو دیارِ نبی کی جانب درود لب پر سجا سجا کر
- الٰہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہوں
- عرش پر بھی ہے ذکرِ شانِ محؐمد
- بارہ ربیع الاول كے دن ابرِ بہارا چھائے
- سوھنیاں نیں آقا تیرے روضے دیاں جالیاں
- یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا
- کیوں نہ اِس راہ کا ایک ایک ہو ذرّہ روشن
- اللہ نے پہنچایا سرکار کے قدموں میں
- طوبےٰ میں جو سب سے اونچی نازک سیدھی نکلی شاخ
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
- یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
- نعت سرکاؐر کی پڑھتاہوں میں
- دمِ حشر جب نہ کسی کو بھی تیرے بن ملے گی امان بھی
- تیری جالیوں کے نیچے تیری رحمتوں کے سائے
- اینویں تے نیئیں دل دا قرار مُک چلیا