نہ زر نہ ہی جاہ و حشم کی طلب ہے
کریم آقا تیرے کرم کی طلب ہے
مدینے میں مِل جائے چھوٹی سی کُٹیا
نہ جنت نہ لوح و قلم کی طلب ہے
میری عیب پوشی سدا کرتے رہنا
کبھی جو نہ ٹوٹے بھرم کی طلب ہے
مصائب سے ایمان مضبوط تر ہو
ہاں شیرِ خدا کے عزم کی طلب ہے
تیری یاد میں جو ہمیشہ رہے نم
مجھے شاہا ایسی چشم کی طلب ہے
جو میرے عشق کو جِلا بخش دیوے
میرے دل کو ایسے ستم کی طلب ہے
میرے جُرم و عصیاں ہیں ان گِنت مولا
تیری بارگاہ سے رحم کی طلب ہے
جو غفلت کی نیندوں سے دل کو جگا دے
مجھے اس نگاہِ کرم کی طلب ہے
نہ زر نہ ہی جاہ و حشم کی طلب ہے
حالیہ پوسٹیں
- سب سے افضل سب سے اعظم
- احمد کہُوں ک ہحامدِ یکتا کہُوں تجھے
- کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
- مولاي صل و سلم دائما أبدا
- ہے کلام ِ الٰہی میں شمس و ضحٰے
- طیبہ والا جدوں دا دیار چھٹیا
- حُضور! آپ کا رُتبہ نہ پا سکا کوئی
- یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
- تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہو گا
- میری زندگی کا تجھ سے یہ نظام چل رہا ہے
- حبیب خدا کا نظارہ کروں میں دل و جان ان پر نثارا کروں میں
- میرے نبی پیارے نبی ؑ ہے مرتبہ بالا تیرا
- یہ چاند ستارے بھی دیتے ہیں خراج اُن کو
- قصیدۂ معراج
- خزاں کی شام کو صبحِ بہار تُو نے کیا
- نہ کلیم کا تصور نہ خیالِ طور سینا
- میں تو امتی ہوں اے شاہ اُمم
- ہے کلامِ الٰہی میں شمس و ضحی ترے چہرہ ءِ نور فزا کی قسم
- ہر وقت تصور میں مدینے کی گلی ہو
- سر تا بقدم ہے تن سلطان زمن پھول