کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
پناہ کملی والے پناہ کملی والے
حرص سے ہوس سے حسد سے بغض سے
بچا کملی والے بچا کملی والے
مجھ عاصی کو اک بار پھر اپنے در پہ
بلا کملی والے بلا کملی والے
ہے اجڑی ہوئی میرے دل کی بھی بستی
بسا کملی والے بسا کملی والے
وہ جنت سے اعلیٰ مدینے کی گلیاں
دکھا کملی والے دکھا کملی والے
ہے میرا مقدر بھی سویا کبھی کا
جگا کملی ولے جگا کملی ولے
کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
حالیہ پوسٹیں
- میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں
- تمہارے ذرے کے پرتو ستار ہائے فلک
- کس کی مجال ہے کہ وہ حق تیرا ادا کرے
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- شبنم میں شراروں میں گلشن کی بہاروں میں
- بھر دو جھولی میری یا محمد
- دلوں کی ہے تسکیں دیارِ مدینہ
- محمد مظہر کامل ہے حق کی شان عزت کا
- جب سے ان کی گلی کا گدا ہو گیا
- آکھیں سونہڑے نوں وائے نی جے تیرا گزر ہو وے
- رحمتِ حق ہے جلوہ فگن طیبہ کے بازاروں میں
- خدا کی خدائی کے اسرار دیکھوں
- پھر اٹھا ولولۂ یادِ مغیلانِ عرب
- خندہ پیشانی سے ہر صدمہ اُٹھاتے ہیں حسین
- ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺍﻣﺎﻥ ﺷﻔﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎﺋﮯ ﺭﮐﮭﻨﺎ
- لو مدینے کی تجلی سے لگائے ہوئے ہیں
- ہو اگر مدحِ کفِ پا سے منور کاغذ
- میری زندگی کا تجھ سے یہ نظام چل رہا ہے
- توانائی نہیں صدمہ اُٹھانے کی ذرا باقی
- ہے پاک رُتبہ فکر سے اُس بے نیاز کا