کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
پناہ کملی والے پناہ کملی والے
حرص سے ہوس سے حسد سے بغض سے
بچا کملی والے بچا کملی والے
مجھ عاصی کو اک بار پھر اپنے در پہ
بلا کملی والے بلا کملی والے
ہے اجڑی ہوئی میرے دل کی بھی بستی
بسا کملی والے بسا کملی والے
وہ جنت سے اعلیٰ مدینے کی گلیاں
دکھا کملی والے دکھا کملی والے
ہے میرا مقدر بھی سویا کبھی کا
جگا کملی ولے جگا کملی ولے
کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
حالیہ پوسٹیں
- محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا
- نبی سَروَرِ ہر رسول و ولی ہے
- یہ نہ پوچھو ملا ہمیں درِ خیرالورٰی سے کیا
- چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط
- خراب حال کیا دِل کو پُر ملال کیا
- دل دیاں اکھاں کدی کھول تے سہی
- در پیش ہو طیبہ کا سفر کیسا لگے گا
- ہے کلام ِ الٰہی میں شمس و ضحٰے
- غلام حشر میں جب سید الوریٰ کے چلے
- بڑی اُمید ہے سرکاؐر قدموں میں بلائیں گے
- نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا
- طیبہ سارے جگ توں جدا سوھنیا
- نور کس کا ہے چاند تاروں میں
- مئے حُبِّ نبی سے جس کا دل سرشار ہو جائے
- رُبا عیات
- سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا
- میں کہاں اور تیری حمد کا مفہوم کہاں
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- ذکرِ احمد میں گزری جو راتیں حال انکا بتایا نہ جائے
- یقیناً منبعِ خوفِ خدا صِدِّیقِ اکبر ہیں