یا رب میری آہوں میں اثرہے کہ نہیں ہے
مجھ میں بھی گدائی کا ہُنر ہے کہ نہیں ہے
شہ رگ سے بھی اقرب ہے تیری ذات خدایا
اس قُرب سے اقرب بھی مگر ہے کہ نہیں ہے
انعام تیرے گن نہ سکوں پھر بھی ہے دھڑکا
تقدیر میں طیبہ کا سفر ہے کہ نہیں ہے
جن جلووں سے نوری بھی بنیں راکھ کی ڈھیری
ان جلووں سے مخمور بشر ہے کہ نہیں ہے
سدرہ سے وریٰ تیرے جہانوں میں خداوند
اِک پیار کا آباد شہر ہے کہ نہیں ہے
ہر آنکھ کی طاقت سے وریٰ ذات بتا تو
جس نے تجھے دیکھا وہ نظر ہے کہ نہیں ہے
اے میرے اِلہٰ تیری ثنا تیرے نبی کی
چاھت میں بنا سارا دھر ہے کہ نہیں ہے
یا رب میری آہوں میں اثرہے کہ نہیں ہے
حالیہ پوسٹیں
- تسکینِ دل و جاں ہیں طیبہ کے نظارے بھی
- اج سک متراں دی ودھیری اے
- نارِ دوزخ کو چمن کردے بہارِ عارض
- مجھے در پہ پھر بلانا مدنی مدینے والے
- کبھی خزاں کبھی فصلِ بہار دیتا ہے
- تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- آج آئے نبیوں کے سردار مرحبا
- دمِ حشر جب نہ کسی کو بھی تیرے بن ملے گی امان بھی
- اول حمد ثناء الہی جو مالک ہر ہر دا
- سیف الملوک
- پوچھتے کیا ہو مدینے سے میں کیا لایا ہوں
- میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں
- تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہو گا
- مجھ کو طیبہ میں بلا لو شاہ زمنی
- سحابِ رحمتِ باری ہے بارھویں تاریخ
- سارے نبیوں کے عہدے بڑے ہیں لیکن آقا کا منصب جدا ہے
- تھی جس کے مقدر میں گدائی ترے در کی
- یہ چاند ستارے بھی دیتے ہیں خراج اُن کو
- ترا ظہور ہوا چشمِ نور کی رونق