یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا
زہرہ پاک کے صدقے ہم کو طیبہ میں بلانا
سج گئی ہے میلاد کی محفل کیا ہے خوب نظارہ
کیف ومستی میں ڈوبا ہے دیکھو عالم سارا
ڈھونڈھ رہی ہے آپ کی رحمت بخشش کا بہانا
بے مایہ ہے لیکن دو جگ پر ہے آپکا سایہ
عرشِ مُعلّی بنا محلہ دید کو رب نے بلایا
حشر تلک نہ ہو گا کسی کا ایسا آنا جانا
آپکے کے در کا میں بھکاری آپ ہیں میرے داتا
سارے رشتوں نوتوں سے ہے پیارا اپنا ناتا
آپ تو ہیں آقا ہے جنکو سیکی لاج نبھانا
نسبت کا فیضان ہے دیکھو خادمِ غوث چلی ہوں
کرتا ہے مجھ پہ ناز زمانہ میں اوصاف علی ہوں
آپ کی آل کا میں نوکر خادم ہوں پُرانا
یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا
زہرہ پاک کے صدقے ہم کو طیبہ میں بلانا
یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا
حالیہ پوسٹیں
- لبوں پر ذکرِ محبوبِ خدا ہے
- یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
- مدینہ سامنے ہے بس ابھی پہنچا میں دم بھر میں
- تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہو گا
- حلقے میں رسولوں کے وہ ماہِ مدنی ہے
- تمہارے ذرے کے پرتو ستار ہائے فلک
- طلسماتِ شب بے اثر کرنے والا
- عشق کے رنگ میں رنگ جائیں جب افکار تو کھلتے ہیں
- دیس عرب کے چاند سہانے رکھ لو اپنے قدموں میں
- ہر لب پہ ہے تیری ثنا ، ہر بزم میں چرچا ترا
- اول حمد ثناء الہی جو مالک ہر ہر دا
- ساقیا کیوں آج رِندوں پر ہے تو نا مہرباں
- میں بھی روزے رکھوں گا یا اللہ توفیق دے
- کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
- محمد مظہر کامل ہے حق کی شان عزت کا
- یہ کہتی تھی گھر گھر میں جا کر حلیمہ
- آکھیں سونہڑے نوں وائے نی جے تیرا گزر ہو وے
- کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
- اب تنگی داماں پہ نہ جا اور بھی کچھ مانگ
- ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے