یادِ سرکارِ طیبہﷺ جو آئی
مل گئی دل کو غم سے رہائی
جس نے دیکھا بیابانِ طیبہ
اس کو رضواں کی جنّت نہ بھائی
مجھ کو بے بس نہ سمجھے زمانہ
ان کے در تک ہے میری رسائی
پھر مصائب نے گھیرا ہے مجھ کو
اے غمِ عشقِ آقاﷺ دہائی
جس نے سمجھا اُنھیں اپنے جیسا
اُس نے ایماں کی دولت گنوائی
یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
حالیہ پوسٹیں
- سحابِ رحمتِ باری ہے بارھویں تاریخ
- یا نبی نظری کرم فرمانا ، یا نبی نظر کرم فرمانا ،
- محؐمد محؐمد پکارے چلا جا
- یا محمد ہے سارا جہاں آپ کا
- کیوں نہ اِس راہ کا ایک ایک ہو ذرّہ روشن
- کس نے غنچوں کو نازکی بخشی
- رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ
- میری زندگی کا تجھ سے یہ نظام چل رہا ہے
- پیغام صبا لائی ہے گلزار نبی سے
- حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو
- طوبےٰ میں جو سب سے اونچی نازک سیدھی نکلی شاخ
- سُن کملے دِلا جے توں چاھنا ایں وسنا
- جس نے مدینے جانڑاں کر لو تیاریاں
- رکتا نہیں ہرگز وہ اِدھر باغِ ارم سے
- مصطفیٰ جان ِ رحمت پہ لاکھوں سلام
- رحمتِ حق ہے جلوہ فگن طیبہ کے بازاروں میں
- نازشِ کون ومکاں ہے سنتِ خیرالوری
- نارِ دوزخ کو چمن کردے بہارِ عارض
- تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
- کہو صبا سے کہ میرا سلام لے جائے