یادِ سرکارِ طیبہﷺ جو آئی
مل گئی دل کو غم سے رہائی
جس نے دیکھا بیابانِ طیبہ
اس کو رضواں کی جنّت نہ بھائی
مجھ کو بے بس نہ سمجھے زمانہ
ان کے در تک ہے میری رسائی
پھر مصائب نے گھیرا ہے مجھ کو
اے غمِ عشقِ آقاﷺ دہائی
جس نے سمجھا اُنھیں اپنے جیسا
اُس نے ایماں کی دولت گنوائی
یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
حالیہ پوسٹیں
- کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج
- فلک پہ دیکھا زمیں پہ دیکھا عجیب تیرا مقام دیکھا
- الصُّبْحُ بدَا مِنْ طَلْعَتِہ
- ہر لب پہ ہے تیری ثنا ، ہر بزم میں چرچا ترا
- Haajiyo Aawo shahenshah ka roza dekho
- تو شمع رسالت ہے عالم تیرا پروانہ
- آج آئے نبیوں کے سردار مرحبا
- دل پھر مچل رہا ہے انکی گلی میں جاؤں
- سرکار یہ نام تمھارا سب ناموں سے ہے پیارا
- سوھنیاں نیں آقا تیرے روضے دیاں جالیاں
- پوچھتے کیا ہو عرش پر یوں گئے مصطفیٰ کہ یوں
- مجھ پہ بھی میرے آقا گر تیرا کرم ہووے
- پل سے اتارو ، راہ گزر کو خبر نہ ہو
- یہ سینہ اور یہ دل دوسرا معلوم ہوتا ہے
- خدا کی خلق میں سب انبیا خاص
- میں تو پنجتن کا غلام ہوں میں مرید خیرالانام ہوں
- شمعِ دیں کی کیسے ہوسکتی ہے مدہم روشنی
- کعبے کی رونق کعبے کا منظر، اللہ اکبر اللہ اکبر
- خزاں کی شام کو صبحِ بہار تُو نے کیا
- حبیب خدا کا نظارہ کروں میں دل و جان ان پر نثارا کروں میں