یادِ سرکارِ طیبہﷺ جو آئی
مل گئی دل کو غم سے رہائی
جس نے دیکھا بیابانِ طیبہ
اس کو رضواں کی جنّت نہ بھائی
مجھ کو بے بس نہ سمجھے زمانہ
ان کے در تک ہے میری رسائی
پھر مصائب نے گھیرا ہے مجھ کو
اے غمِ عشقِ آقاﷺ دہائی
جس نے سمجھا اُنھیں اپنے جیسا
اُس نے ایماں کی دولت گنوائی
یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
حالیہ پوسٹیں
- ہر دم تیری باتیں کرنا اچھا لگتا ہے
- پھر اٹھا ولولۂ یادِ مغیلانِ عرب
- نہ پوچھو کہ کیا ہیں ہمارے محمدؐ
- آرزو ہے میری یامحمد موت آئے تو اس طرح آئے
- پوچھتے کیا ہو مدینے سے میں کیا لایا ہوں
- خدا کی خدائی کے اسرار دیکھوں
- سب کچھ ہے خدا،اُس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
- زمیں میلی نہیں ہوتی زمن میلا نہیں ہوتا
- یوں تو سارے نبی محترم ہیں سرورِ انبیا تیری کیا بات ہے
- عجب کرم شہ والا تبار کرتے ہیں
- تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- نبی اللہ نبی اللہ جپدے رہوو
- پھر دل میں بہاراں کے آثار نظر آئے
- محمد مظہر کامل ہے حق کی شان عزت کا
- یہ نہ پوچھو ملا ہمیں درِ خیرالورٰی سے کیا
- چمن دلوں کے کھلانا، حضور جانتے ہیں
- عشق کے رنگ میں رنگ جائیں جب افکار تو کھلتے ہیں
- طوبےٰ میں جو سب سے اونچی نازک سیدھی نکلی شاخ
- خراب حال کیا دِل کو پُر ملال کیا