یادِ سرکارِ طیبہﷺ جو آئی
مل گئی دل کو غم سے رہائی
جس نے دیکھا بیابانِ طیبہ
اس کو رضواں کی جنّت نہ بھائی
مجھ کو بے بس نہ سمجھے زمانہ
ان کے در تک ہے میری رسائی
پھر مصائب نے گھیرا ہے مجھ کو
اے غمِ عشقِ آقاﷺ دہائی
جس نے سمجھا اُنھیں اپنے جیسا
اُس نے ایماں کی دولت گنوائی
یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
حالیہ پوسٹیں
- آئینہ بھی آئینے میں منظر بھی اُسی کا
- سرور انبیاء کی ہے محفل سجی
- رب دیاں رحمتاں لٹائی رکھدے
- خاکِ طیبہ کی اگر دل میں ہو وقعت محفوظ
- واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا
- پاٹ وہ کچھ دَھار یہ کچھ زار ہم
- اللہ دے حضور دی اے گل وکھری
- تو شاہِ خوباں، تو جانِ جاناں، ہے چہرہ اُم الکتاب تیرا
- غم ہو گئے بے شمار آقا
- کعبے کی رونق کعبے کا منظر، اللہ اکبر اللہ اکبر
- خطا کار ہوں با خدا مانتا ہوں
- فلک کے نظارو زمیں کی بہارو سب عیدیں مناؤ حضور آ گئے ہیں
- مجھے بھی مدینے بلا میرے مولا کرم کی تجلی دکھا میرے مولا
- رُخ دن ہے یا مہرِ سما ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
- عاصیوں کو دَر تمہارا مل گیا
- زمین و زماں تمہارے لئے ، مکین و مکاں تمہارے لیے
- مجھے در پہ پھر بلانا مدنی مدینے والے
- نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں
- طوبےٰ میں جو سب سے اونچی نازک سیدھی نکلی شاخ
- بے اجازت اُس طرف نظریں اٹھا سکتا ہے کون