یادِ سرکارِ طیبہﷺ جو آئی
مل گئی دل کو غم سے رہائی
جس نے دیکھا بیابانِ طیبہ
اس کو رضواں کی جنّت نہ بھائی
مجھ کو بے بس نہ سمجھے زمانہ
ان کے در تک ہے میری رسائی
پھر مصائب نے گھیرا ہے مجھ کو
اے غمِ عشقِ آقاﷺ دہائی
جس نے سمجھا اُنھیں اپنے جیسا
اُس نے ایماں کی دولت گنوائی
یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
حالیہ پوسٹیں
- ایمان ہے قال مصطفائی
- رُبا عیات
- توانائی نہیں صدمہ اُٹھانے کی ذرا باقی
- نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا
- طیبہ نگری کی گلیوں میں دل کی حالت مت پوچھو
- طیبہ کی ہے یاد آئی اب اشک بہانے دو
- کون ہو مسند نشیں خاکِ مدینہ چھوڑ کر
- طیبہ والا جدوں دا دیار چھٹیا
- ان کا منگتا ہوں جو منگتا نہیں ہونے دیتے
- دل میں ہو یاد تیری گوشہ تنہائی ہو
- سرکار دو عالم کے رخ پرانوار کا عالم کیا ہوگا
- مجھ پہ بھی میرے آقا گر تیرا کرم ہووے
- مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے
- دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
- مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
- ہے کلام ِ الٰہی میں شمس و ضحٰے
- اے کہ ترے جلال سے ہل گئی بزمِ کافری
- عرش پر بھی ہے ذکرِ شانِ محؐمد
- ہم درِ مصطفےٰ دیکھتے رہ گئے
- چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط