یادِ سرکارِ طیبہﷺ جو آئی
مل گئی دل کو غم سے رہائی
جس نے دیکھا بیابانِ طیبہ
اس کو رضواں کی جنّت نہ بھائی
مجھ کو بے بس نہ سمجھے زمانہ
ان کے در تک ہے میری رسائی
پھر مصائب نے گھیرا ہے مجھ کو
اے غمِ عشقِ آقاﷺ دہائی
جس نے سمجھا اُنھیں اپنے جیسا
اُس نے ایماں کی دولت گنوائی
یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
حالیہ پوسٹیں
- سلام اس ذاتِ اقدس پر سلام اس فخرِ دوراں پر
- نہیں خوش بخت محتاجانِ عالم میں کوئی ہم سا
- لو مدینے کی تجلی سے لگائے ہوئے ہیں
- یا نبی سلام علیک یا رسول سلام علیک
- لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی
- تمھارے در سے اٹھوں میں تشنہ زمانہ پوچھے تو کیا کہوں گا
- سنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رسائی ہے
- کرے مدحِ شہِ والا، کہاں انساں میں طاقت ہے
- غلام حشر میں جب سید الوریٰ کے چلے
- تُو کجا من کجا
- کس کے جلوے کی جھلک ہے یہ اجالا کیا ہے
- جاتے ہیں سوے مدینہ گھر سے ہم
- دل دیاں اکھاں کدی کھول تے سہی
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- نصیب آج اپنے جگائے گئے ہیں
- جو گزریاں طیبہ نگری وچ او گھڑیاں مینوں بھلدیاں نئیں
- اے سبز گنبد والے منظور دعا کرنا
- حبیب خدا کا نظارہ کروں میں دل و جان ان پر نثارا کروں میں
- سُن کملے دِلا جے توں چاھنا ایں وسنا
- ادھر بھی نگاہِ کرم یا محمد ! صدا دے رہے ہیں یہ در پر سوالی