یادِ سرکارِ طیبہﷺ جو آئی
مل گئی دل کو غم سے رہائی
جس نے دیکھا بیابانِ طیبہ
اس کو رضواں کی جنّت نہ بھائی
مجھ کو بے بس نہ سمجھے زمانہ
ان کے در تک ہے میری رسائی
پھر مصائب نے گھیرا ہے مجھ کو
اے غمِ عشقِ آقاﷺ دہائی
جس نے سمجھا اُنھیں اپنے جیسا
اُس نے ایماں کی دولت گنوائی
یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
حالیہ پوسٹیں
- میں مدینے چلا میں مدینے چلا
- رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ
- تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہو گا
- یہ حقیقت ہے کہ جینا وہی جینا ہوگا
- نعت سرکاؐر کی پڑھتاہوں میں
- ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺍﻣﺎﻥ ﺷﻔﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎﺋﮯ ﺭﮐﮭﻨﺎ
- مرا پیمبر عظیم تر ہے
- پھر دل میں بہاراں کے آثار نظر آئے
- نہ آسمان کو یوں سر کشیدہ ہونا تھا
- میں تو پنجتن کا غلام ہوں میں مرید خیرالانام ہوں
- آج اشک میرے نعت سنائیں تو عجب کیا
- بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر کا
- خلق کے سرور شافع محشر صلی اللہ علیہ وسلم
- نہ آسمان کو یوں سرکشیدہ ہونا تھا
- شبنم میں شراروں میں گلشن کی بہاروں میں
- خواجۂ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا
- مصطفیٰ جان ِ رحمت پہ لاکھوں سلام
- جاں بلب ہوں آ مری جاں الغیاث
- فضلِ رَبّْ العْلیٰ اور کیا چاہیے
- مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام