یادِ سرکارِ طیبہﷺ جو آئی
مل گئی دل کو غم سے رہائی
جس نے دیکھا بیابانِ طیبہ
اس کو رضواں کی جنّت نہ بھائی
مجھ کو بے بس نہ سمجھے زمانہ
ان کے در تک ہے میری رسائی
پھر مصائب نے گھیرا ہے مجھ کو
اے غمِ عشقِ آقاﷺ دہائی
جس نے سمجھا اُنھیں اپنے جیسا
اُس نے ایماں کی دولت گنوائی
یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
حالیہ پوسٹیں
- تڑپ رہاں ہوں میں کب سے یا رب
- رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ
- یا رب میری سوئی ہوئی تقدیر جگا دے
- عاصیوں کو دَر تمہارا مل گیا
- سحابِ رحمتِ باری ہے بارھویں تاریخ
- جو گزریاں طیبہ نگری وچ او گھڑیاں مینوں بھلدیاں نئیں
- اے حبِّ وطن ساتھ نہ یوں سوے نجف جا
- انکے درِ نیاز پر سارا جہاں جھکا ہوا
- حمدِ خدا میں کیا کروں
- خواجۂ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا
- پڑے مجھ پر نہ کچھ اُفتاد یا غوث
- خوب نام محمد ھے اے مومنو
- تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے
- اُسی کا حکم جاری ہے زمینوں آسمانوں میں
- لم یات نطیرک فی نظر، مثل تو نہ شد پیدا جانا
- اللہ دے حضور دی اے گل وکھری
- طیبہ نگری کی گلیوں میں دل کی حالت مت پوچھو
- تو ہے وہ غوث کہ ہر غوث ہے شیدا تیرا
- اﷲ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا
- عشق کے رنگ میں رنگ جائیں جب افکار تو کھلتے ہیں