یادِ سرکارِ طیبہﷺ جو آئی
مل گئی دل کو غم سے رہائی
جس نے دیکھا بیابانِ طیبہ
اس کو رضواں کی جنّت نہ بھائی
مجھ کو بے بس نہ سمجھے زمانہ
ان کے در تک ہے میری رسائی
پھر مصائب نے گھیرا ہے مجھ کو
اے غمِ عشقِ آقاﷺ دہائی
جس نے سمجھا اُنھیں اپنے جیسا
اُس نے ایماں کی دولت گنوائی
یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
حالیہ پوسٹیں
- سوہنا اے من موہنا اے آمنہ تیرا لال نی
- مدینے کا شاہ سب جہانوں کا مالک
- خواجۂ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- نصیب آج اپنے جگائے گئے ہیں
- ہو ورد صبح و مسا لا الہ الا اللہ
- یا محمد نورِ مجسم یا حبیبی یا مولائی
- یہ سینہ اور یہ دل دوسرا معلوم ہوتا ہے
- نبی سَروَرِ ہر رسول و ولی ہے
- کہاں میں بندۂ عاجز کہاں حمد و ثنا تیری
- کبھی ان کی خدمت میں جا کے تودیکھو
- فلک کے نظارو زمیں کی بہارو سب عیدیں مناؤ حضور آ گئے ہیں
- شہنشاہا حبیبا مدینہ دیا خیر منگناہاں میں تیری سرکار چوں
- ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
- دلوں کی ہے تسکیں دیارِ مدینہ
- دل میں بس گئے یارو طیبہ کے نظارے ہیں
- نہ کلیم کا تصور نہ خیالِ طور سینا
- تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے
- تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
- دونوں جہاں کا حسن مدینے کی دُھول ہے