یادِ سرکارِ طیبہﷺ جو آئی
مل گئی دل کو غم سے رہائی
جس نے دیکھا بیابانِ طیبہ
اس کو رضواں کی جنّت نہ بھائی
مجھ کو بے بس نہ سمجھے زمانہ
ان کے در تک ہے میری رسائی
پھر مصائب نے گھیرا ہے مجھ کو
اے غمِ عشقِ آقاﷺ دہائی
جس نے سمجھا اُنھیں اپنے جیسا
اُس نے ایماں کی دولت گنوائی
یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
حالیہ پوسٹیں
- دل و نگاہ کی دنیا نئی نئی ہوئی ہے
- در پیش ہو طیبہ کا سفر کیسا لگے گا
- جاں بلب ہوں آ مری جاں الغیاث
- شورِ مہِ نَو سن کر تجھ تک میں دَواں آیا
- خدا کے قرب میں جانا حضور جانتے ہیں
- یقیناً منبعِ خوفِ خدا صِدِّیقِ اکبر ہیں
- یہ کہتی تھی گھر گھر میں جا کر حلیمہ
- اپنی نسبت سے میں کچھ نہیں ہوں، اس کرم کی بدولت بڑا ہوں
- اﷲ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا
- رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- یہ دنیا اک سمندر ہے مگر ساحل مدینہ ہے
- مولاي صل و سلم دائما أبدا
- دل دیاں اکھاں کدی کھول تے سہی
- تو ہے وہ غوث کہ ہر غوث ہے شیدا تیرا
- میں مدینے چلا میں مدینے چلا
- جانبِ مغرب وہ چمکا آفتاب
- امام المرسلیں آئے
- سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا
- عرش پر بھی ہے ذکرِ شانِ محؐمد