یادِ سرکارِ طیبہﷺ جو آئی
مل گئی دل کو غم سے رہائی
جس نے دیکھا بیابانِ طیبہ
اس کو رضواں کی جنّت نہ بھائی
مجھ کو بے بس نہ سمجھے زمانہ
ان کے در تک ہے میری رسائی
پھر مصائب نے گھیرا ہے مجھ کو
اے غمِ عشقِ آقاﷺ دہائی
جس نے سمجھا اُنھیں اپنے جیسا
اُس نے ایماں کی دولت گنوائی
یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
حالیہ پوسٹیں
- تیری شان پہ میری جان فدا
- کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے
- زمین و زماں تمہارے لئے ، مکین و مکاں تمہارے لیے
- ادھر بھی نگاہِ کرم یا محمد ! صدا دے رہے ہیں یہ در پر سوالی
- یا محمد ہے سارا جہاں آپ کا
- تم بات کرو ہونہ ملاقات کرو ہو
- وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا
- احمد کہُوں ک ہحامدِ یکتا کہُوں تجھے
- اس کرم کا کروں شکر کیسے ادا جو کرم مجھ پہ میرے نبی کر دیا
- عاصیوں کو دَر تمہارا مل گیا
- اپنی رحمت کے سمندر میں اُتر جانے دے
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
- محمد مظہر کامل ہے حق کی شان عزت کا
- نبی اللہ نبی اللہ جپدے رہوو
- ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
- اشارے سے چاند چیر دیا چھپے ہوئے خور کو پھیر لیا
- پل سے اتارو ، راہ گزر کو خبر نہ ہو
- کوئی سلیقہ ہے آرزو کا ، نہ بندگی میری بندگی ہے
- زہے عزت و اعتلائے محمد