یادِ سرکارِ طیبہﷺ جو آئی
مل گئی دل کو غم سے رہائی
جس نے دیکھا بیابانِ طیبہ
اس کو رضواں کی جنّت نہ بھائی
مجھ کو بے بس نہ سمجھے زمانہ
ان کے در تک ہے میری رسائی
پھر مصائب نے گھیرا ہے مجھ کو
اے غمِ عشقِ آقاﷺ دہائی
جس نے سمجھا اُنھیں اپنے جیسا
اُس نے ایماں کی دولت گنوائی
یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
حالیہ پوسٹیں
- تنم فرسودہ، جاں پارہ ز ہجراں، یا رسول اللہ ۖ
- جو گزریاں طیبہ نگری وچ او گھڑیاں مینوں بھلدیاں نئیں
- فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ، ہم بھی بے بس نہیں ، بے سہارا نہیں
- اسیروں کے مشکل کشا غوث اعظم
- خدا کی خلق میں سب انبیا خاص
- توانائی نہیں صدمہ اُٹھانے کی ذرا باقی
- مجھ کو طیبہ میں بلا لو شاہ زمنی
- جس نے مدینے جانڑاں کر لو تیاریاں
- نبیؐ کا لب پر جو ذکر ہے بےمثال آیا کمال آیا
- منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے
- خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- کچھ غم نہیں اگرچہ زمانہ ہو بر خلاف
- ہر لب پہ ہے تیری ثنا ، ہر بزم میں چرچا ترا
- شاہِ کونین کی ہر ادا نور ہے
- نہ آسمان کو یوں سرکشیدہ ہونا تھا
- راتیں بھی مدینے کی باتیں بھی مدینے کی
- میں گدائے دیارِ نبی ہوں پوچھیئے میرے دامن میں کیا ہے
- خدا کی قسم آپ جیسا حسیں
- سنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رسائی ہے