یادِ سرکارِ طیبہﷺ جو آئی
مل گئی دل کو غم سے رہائی
جس نے دیکھا بیابانِ طیبہ
اس کو رضواں کی جنّت نہ بھائی
مجھ کو بے بس نہ سمجھے زمانہ
ان کے در تک ہے میری رسائی
پھر مصائب نے گھیرا ہے مجھ کو
اے غمِ عشقِ آقاﷺ دہائی
جس نے سمجھا اُنھیں اپنے جیسا
اُس نے ایماں کی دولت گنوائی
یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
حالیہ پوسٹیں
- مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ
- غلام حشر میں جب سید الوریٰ کے چلے
- جا زندگی مدینے سے جھونکے ہوا کے لا
- یا نبی سلام علیک یا رسول سلام علیک
- جب درِ مصطفےٰ کا نطارا ہو
- مئے حُبِّ نبی سے جس کا دل سرشار ہو جائے
- اول حمد ثناء الہی جو مالک ہر ہر دا
- عاصیوں کو در تمھارا مل گیا
- مدینے کی ٹھنڈی ہواؤں پہ صدقے
- افکار کی لذت کیا کہنا جذبات کا عالم کیا کہنا
- انکے درِ نیاز پر سارا جہاں جھکا ہوا
- خدا کی خلق میں سب انبیا خاص
- یا رب میری آہوں میں اثرہے کہ نہیں ہے
- قربان میں اُن کی بخشش کے مقصد بھی زباں پر آیا نہیں
- ہے کلامِ الٰہی میں شمس و ضحی ترے چہرہ ءِ نور فزا کی قسم
- تیری جالیوں کے نیچے تیری رحمتوں کے سائے
- پل سے اتارو ، راہ گزر کو خبر نہ ہو
- حالِ دل کس کو سنائیں آپ کے ہوتے ہوئے
- سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی
- نعت سرکاؐر کی پڑھتاہوں میں