یہ کس نے پکارا محمد محمد بڑا لطف آیا سویرے سویرے
خدا کی قسم اُنؐ کو موجود پایا جو سر کو جھکایا سویرے سویرے
خبر جن کے آنے کی نبیوؑ ں نے دی تھی وہ محبوؐب آیا سویرے سویرے
مبارک ہو اے آمنہ بی کہ تم نے بڑا اوج پایا سویرے سویرے
علوم لطافت کلیم نزاکت بہار آ گئی جب وہ تشریف لائے
سراپائے رحمت وہ جان بہاراں زمانے پے چھایا سویرے سویرے
خیال محمد ﷺ میں نیند آگئی جب قرار آگیا بے قراری کو میری
کیے سبز گنبد کے میں نے نظارے یہ دل جگمگایا سویرے سویرے
سحر سر بسجدہ ہے شب سربسجدہ دو عالم جھکے میرے آقاؐ کے در پر
قمر رات بھر اُن کے روزے پے گھوما تو خورشید آیا سویرے سویرے
نماز محبت ادا کر رہا تھا تصور میں تھے سامنے کملی ؐوالے
شکیلؔ حاصل زندگی تھا وہ سجدہ جو سر کو جھکایا سویرے سویرے
یہ کس نے پکارا محمد محمد بڑا لطف آیا سویرے سویرے
حالیہ پوسٹیں
- نہ اِترائیں کیوں عاشقانِ محؐمد
- اپنی نسبت سے میں کچھ نہیں ہوں، اس کرم کی بدولت بڑا ہوں
- جنہاں نوں اے نسبت او تھاواں تے ویکھو
- بندہ قادر کا بھی قادر بھی ہے عبدالقادر
- خواجۂ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا
- یادِ وطن ستم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوں
- سچ کہواں رب دا جہان بڑا سوھنا اے
- ہتھ بنھ کے میں ترلے پانواں مینوں سد لو مدینے آقا
- کچھ غم نہیں اگرچہ زمانہ ہو بر خلاف
- محمد مظہر کامل ہے حق کی شان عزت کا
- فلک کے نظارو زمیں کی بہارو سب عیدیں مناؤ حضور آ گئے ہیں
- پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
- لو مدینے کی تجلی سے لگائے ہوئے ہیں
- دل ٹھکانہ میرے حضور کا ہے
- مدینہ میں ہے وہ سامانِ بارگاہِ رفیع
- عاصیوں کو دَر تمہارا مل گیا
- الصُّبْحُ بدَا مِنْ طَلْعَتِہ
- کیا مہکتے ہیں مہکنے والے
- لحد میں عشقِ رُخِ شہ کا داغ لے کے چلے
- تو شمع رسالت ہے عالم تیرا پروانہ