یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
دامن میں اگر ٹکڑے تمہارے نہیں ہوتے
ملتی نہ اگر بھیگ حضور آپ کے در سے
اس ٹھاٹ سے منگتوں کے گزارے نہیں ہوتے
بے دام ہی بکِ جائیں گے دربارِ نبی میں
اس طرح کے سودے میں خسارے نہیں ہوتے
ہم جیسے نکموں کو گلے کون لگاتا
سرکار اگر آپ ہمارے نہیں ہوتے
وہ چاہیں بلالیں جسے یہ ان کا کرم ہے
بے اذِن مدینے کے نظارے نہیں ہوتے
خالد یہ تقدس ہے فقط نعت کا ورنہ
محشر میں ترے وارے نیارے نہیں ہوتے
یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
حالیہ پوسٹیں
- بڑی مشکل یہ ہے جب لب پہ تیرا ذکر آتا ہے
- سر محشر شفاعت کے طلب گاروں میں ہم بھی ہیں
- نہ پوچھو کہ کیا ہیں ہمارے محمدؐ
- اج سک متراں دی ودھیری اے
- تنم فرسودہ، جاں پارہ ز ہجراں، یا رسول اللہ ۖ
- کیا مہکتے ہیں مہکنے والے
- خدا کی خدائی کے اسرار دیکھوں
- یقیناً منبعِ خوفِ خدا صِدِّیقِ اکبر ہیں
- قربان میں اُن کی بخشش کے مقصد بھی زباں پر آیا نہیں
- کرے چارہ سازی زیارت کسی کی بھرے زخم دل کے ملاحت کسی کی
- کس کی مجال ہے کہ وہ حق تیرا ادا کرے
- میری زندگی کا تجھ سے یہ نظام چل رہا ہے
- جانبِ مغرب وہ چمکا آفتاب
- طرب انگیز ہے راحت فزا ہے کیف ساماں ہے
- وہی جو خالق جہان کا ہے وہی خدا ہے وہی خدا ہے
- جاتے ہیں سوے مدینہ گھر سے ہم
- رُبا عیات
- تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
- امام المرسلیں آئے
- یا محمد نورِ مجسم یا حبیبی یا مولائی