یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
دامن میں اگر ٹکڑے تمہارے نہیں ہوتے
ملتی نہ اگر بھیگ حضور آپ کے در سے
اس ٹھاٹ سے منگتوں کے گزارے نہیں ہوتے
بے دام ہی بکِ جائیں گے دربارِ نبی میں
اس طرح کے سودے میں خسارے نہیں ہوتے
ہم جیسے نکموں کو گلے کون لگاتا
سرکار اگر آپ ہمارے نہیں ہوتے
وہ چاہیں بلالیں جسے یہ ان کا کرم ہے
بے اذِن مدینے کے نظارے نہیں ہوتے
خالد یہ تقدس ہے فقط نعت کا ورنہ
محشر میں ترے وارے نیارے نہیں ہوتے
یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
حالیہ پوسٹیں
- اشارے سے چاند چیر دیا چھپے ہوئے خور کو پھیر لیا
- باغ‘جنت کے ہیں بہرِ مدح خوانِ اہلِ بیت
- مدینے کا شاہ سب جہانوں کا مالک
- کیوں نہ اِس راہ کا ایک ایک ہو ذرّہ روشن
- مصطفیٰ جان ِ رحمت پہ لاکھوں سلام
- اے کہ ترے جلال سے ہل گئی بزمِ کافری
- محمد مظہر کامل ہے حق کی شان عزت کا
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- نہ اِترائیں کیوں عاشقانِ محؐمد
- پوچھتے کیا ہو مدینے سے میں کیا لایا ہوں
- ارباب زر کےمنہ سے جب بولتا ہے پیسہ
- حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے
- عجب کرم شہ والا تبار کرتے ہیں
- مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
- فلک پہ دیکھا زمیں پہ دیکھا عجیب تیرا مقام دیکھا
- عاصیوں کو دَر تمہارا مل گیا
- کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
- طیبہ سارے جگ توں جدا سوھنیا
- وہ یوں تشریف لائے ہم گنہ گاروں کے جھرمٹ میں
- رب دیاں رحمتاں لٹائی رکھدے