تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
نہ کچھ اور اسکے سِوا مانگتے ہیں
اندھیروں میں ڈوبی ہوئی زندگی ہے
اے نورِ مجسم ضیاء مانگتے ہیں
حشر میں جہاں کوئی پُرساں نہ ہو گا
تیرے نام کا آسرا مانگتے ہیں
چھُٹے نہ کہیں کملی والے کا دامن
خدا سے یہی اِک دعا مانگتے ہیں
اگر جیتے جی پہنچ جائیں مدینے
تو واپس نہ آئیں قضا مانگتے ہیں
تیری دید بن اور جینا ہے مشکل
تیرے پاس رہنا سدا مانگتے ہیں
تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
حالیہ پوسٹیں
- تو شاہِ خوباں، تو جانِ جاناں، ہے چہرہ اُم الکتاب تیرا
- کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے
- بندہ ملنے کو قریبِ حضرتِ قادر گیا
- اک خواب سناواں
- معطیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہو گیا
- مئے حُبِّ نبی سے جس کا دل سرشار ہو جائے
- حبیب خدا کا نظارہ کروں میں دل و جان ان پر نثارا کروں میں
- مجھ پہ چشمِ کرم اے میرے آقا کرنا
- رشکِ قمر ہوں رنگِ رخِ آفتاب ہوں
- پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے
- عکسِ روئے مصطفے سے ایسی زیبائی ملی
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- دل و نگاہ کی دنیا نئی نئی ہوئی ہے
- لبوں پر ذکرِ محبوبِ خدا ہے
- میرے نبی پیارے نبی ؑ ہے مرتبہ بالا تیرا
- ذکرِ احمد میں گزری جو راتیں حال انکا بتایا نہ جائے
- کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
- لطف ان کا عام ہو ہی جائے گا
- ترا ظہور ہوا چشمِ نور کی رونق
- میرے نبی پیارے نبی ؑ ہے مرتبہ بالا تیرا