تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
نہ کچھ اور اسکے سِوا مانگتے ہیں
اندھیروں میں ڈوبی ہوئی زندگی ہے
اے نورِ مجسم ضیاء مانگتے ہیں
حشر میں جہاں کوئی پُرساں نہ ہو گا
تیرے نام کا آسرا مانگتے ہیں
چھُٹے نہ کہیں کملی والے کا دامن
خدا سے یہی اِک دعا مانگتے ہیں
اگر جیتے جی پہنچ جائیں مدینے
تو واپس نہ آئیں قضا مانگتے ہیں
تیری دید بن اور جینا ہے مشکل
تیرے پاس رہنا سدا مانگتے ہیں
تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
حالیہ پوسٹیں
- اپنی رحمت کے سمندر میں اُتر جانے دے
- وہ یوں تشریف لائے ہم گنہ گاروں کے جھرمٹ میں
- کس کی مجال ہے کہ وہ حق تیرا ادا کرے
- کدی میم دا گھونگھٹ چا تے سہی
- سنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رسائی ہے
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- کون ہو مسند نشیں خاکِ مدینہ چھوڑ کر
- شورِ مہِ نَو سن کر تجھ تک میں دَواں آیا
- اے دینِ حق کے رہبر تم پر سلام ہر دم
- مجھے در پہ پھر بلانا مدنی مدینے والے
- اج سک متراں دی ودھیری اے
- روک لیتی ہے آپ کی نسبت تیر جتنے بھی ہم پہ چلتے ہیں
- میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں
- نور کس کا ہے چاند تاروں میں
- پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
- تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
- چھائے غم کے بادل کالے
- تو ہے وہ غوث کہ ہر غوث ہے شیدا تیرا
- سوہنا اے من موہنا اے آمنہ تیرا لال نی
- سن لو خدا کے واسطے اپنے گدا کی عرض