خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
تیری شان سب سے جدا مانتے ہیں
تیری نعت کا حق ادا نہ ہوا ہے
خطاوار ہیں ہم خطا مانتے ہیں
تیرا ذکرِ اقدس ہے تسکیں دلوں کی
تیرا ذکر ذکرِ خدا مانتے ہیں
تیرا نام تریاق سب مشکلوں کا
تیرا نام دل کی جلا مانتے ہیں
تیری اتباع اتباعِ خدا ہے
تیرا حکم حکمِ خدا مانتے ہیں
تو محبوبِ حق تو ہی مطلوبِ حق ہے
تجھے سب جہاں آسرا مانتے ہیں
خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
حالیہ پوسٹیں
- چار یار نبی دے چار یار حق
- کبھی خزاں کبھی فصلِ بہار دیتا ہے
- طوبےٰ میں جو سب سے اونچی نازک سیدھی نکلی شاخ
- کیا مہکتے ہیں مہکنے والے
- کرے مدحِ شہِ والا، کہاں انساں میں طاقت ہے
- جانبِ مغرب وہ چمکا آفتاب
- سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی
- ہم تمہارے ہوکے کس کے پاس جائیں
- رب کولوں اساں غم خوار منگیا
- دل ٹھکانہ میرے حضور کا ہے
- وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں
- نصیب آج اپنے جگائے گئے ہیں
- قبلہ کا بھی کعبہ رُخِ نیکو نظر آیا
- طیبہ دیاں گلاں صبح و شام کریے
- کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
- فلک کے نظارو زمیں کی بہارو سب عیدیں مناؤ حضور آ گئے ہیں
- میرے مولا کرم کر دے
- میرے مولا کرم ہو کرم
- یہ سینہ اور یہ دل دوسرا معلوم ہوتا ہے
- ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے