خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
تیری شان سب سے جدا مانتے ہیں
تیری نعت کا حق ادا نہ ہوا ہے
خطاوار ہیں ہم خطا مانتے ہیں
تیرا ذکرِ اقدس ہے تسکیں دلوں کی
تیرا ذکر ذکرِ خدا مانتے ہیں
تیرا نام تریاق سب مشکلوں کا
تیرا نام دل کی جلا مانتے ہیں
تیری اتباع اتباعِ خدا ہے
تیرا حکم حکمِ خدا مانتے ہیں
تو محبوبِ حق تو ہی مطلوبِ حق ہے
تجھے سب جہاں آسرا مانتے ہیں
خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
حالیہ پوسٹیں
- آرزو ہے میری یامحمد موت آئے تو اس طرح آئے
- یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا
- حدودِ طائر سدرہ، حضور جانتے ہیں
- تمھارے در سے اٹھوں میں تشنہ زمانہ پوچھے تو کیا کہوں گا
- نارِ دوزخ کو چمن کردے بہارِ عارض
- گل ا ز رخت آمو ختہ نازک بدنی را بدنی را
- بس! محمد ہے نبی سارے زمانے والا
- تمہارے ذرے کے پرتو ستار ہائے فلک
- خدا کے قرب میں جانا حضور جانتے ہیں
- طلسماتِ شب بے اثر کرنے والا
- جو گزریاں طیبہ نگری وچ او گھڑیاں مینوں بھلدیاں نئیں
- مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
- جنہاں نوں اے نسبت او تھاواں تے ویکھو
- ساقیا کیوں آج رِندوں پر ہے تو نا مہرباں
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- آئینہ بھی آئینے میں منظر بھی اُسی کا
- افکار کی لذت کیا کہنا جذبات کا عالم کیا کہنا
- کیونکر نہ میرے دل میں ہو الفت رسول کی
- کس نے غنچوں کو نازکی بخشی
- حُسن سارے کا سارا مدینے میں ہے