خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
تیری شان سب سے جدا مانتے ہیں
تیری نعت کا حق ادا نہ ہوا ہے
خطاوار ہیں ہم خطا مانتے ہیں
تیرا ذکرِ اقدس ہے تسکیں دلوں کی
تیرا ذکر ذکرِ خدا مانتے ہیں
تیرا نام تریاق سب مشکلوں کا
تیرا نام دل کی جلا مانتے ہیں
تیری اتباع اتباعِ خدا ہے
تیرا حکم حکمِ خدا مانتے ہیں
تو محبوبِ حق تو ہی مطلوبِ حق ہے
تجھے سب جہاں آسرا مانتے ہیں
خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
حالیہ پوسٹیں
- ہے پاک رُتبہ فکر سے اُس بے نیاز کا
- کون ہو مسند نشیں خاکِ مدینہ چھوڑ کر
- وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
- دل خون کے آنسو روتا ہے اے چارہ گرو کچھ مدد کرو
- تو ہے وہ غوث کہ ہر غوث ہے شیدا تیرا
- وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں
- بڑی مشکل یہ ہے جب لب پہ تیرا ذکر آتا ہے
- میں کہاں پہنچ گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
- ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺍﻣﺎﻥ ﺷﻔﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎﺋﮯ ﺭﮐﮭﻨﺎ
- سارے نبیوں کے عہدے بڑے ہیں لیکن آقا کا منصب جدا ہے
- نہ کہیں سے دُور ہیں مَنزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے
- فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ، ہم بھی بے بس نہیں ، بے سہارا نہیں
- رُبا عیات
- بے اجازت اُس طرف نظریں اٹھا سکتا ہے کون
- حمدِ خدا میں کیا کروں
- کس نے غنچوں کو نازکی بخشی
- سرور انبیاء کی ہے محفل سجی
- نبی سَروَرِ ہر رسول و ولی ہے
- کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
- یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی