طیبہ دیاں گلاں صبح و شام کریے
ہر ویلے اکو ای کلام کریے
دل وچ وسدا اے اکو ای خیال
طیبہ وچ جندڑی نیلام کریے
طور نہ جنتاں دی لوڑ سانوں
ہر گھڑی طیبہ دے ای نام کریے
رب کولوں اکو ای دعا منگیے
طیبہ وچ وسنا دوام کریے
طیبہ دیاں گلیاں دے وچ بیٹھ کے
آقا تے درود تے سلام کریے
طیبہ جا کے مُڑ آنا جچدا نیئیں
طیبہ وچ پکا ای قیام کریے
روضے دیاں اکھاں نال چُم جالیاں
زندگی دا سفر تمام کریے
طیبہ دیاں گلاں صبح و شام کریے
حالیہ پوسٹیں
- مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے
- دل ٹھکانہ میرے حضور کا ہے
- پل سے اتارو ، راہ گزر کو خبر نہ ہو
- کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
- یہ چاند ستارے بھی دیتے ہیں خراج اُن کو
- تیری رحمتوں کا دریا سر عام چل رہا ہے
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- کعبے کے بدر الدجیٰ تم پہ کروڑوں درود
- خدا کی عظمتیں کیا ہیں محمد مصطفی جانیں
- کرے چارہ سازی زیارت کسی کی بھرے زخم دل کے ملاحت کسی کی
- شورِ مہِ نَو سن کر تجھ تک میں دَواں آیا
- یا رب میری سوئی ہوئی تقدیر جگا دے
- پوچھتے کیا ہو مدینے سے میں کیا لایا ہوں
- نہ کلیم کا تصور نہ خیالِ طور سینا
- کبھی ان کی خدمت میں جا کے تودیکھو
- تیرا ذکر میری ہے زندگی تیری نعت میری ہے بندگی
- لم یات نطیرک فی نظر، مثل تو نہ شد پیدا جانا
- رحمتِ حق ہے جلوہ فگن طیبہ کے بازاروں میں
- تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہو گا
- شہنشاہا حبیبا مدینہ دیا خیر منگناہاں میں تیری سرکار چوں