میرے مولا کرم ہو کرم
تجھ سے فریاد کرتے ہیں ہم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
یہ زمیں اور یہ آسما
تیرے قبضے میں ہیں دو جہاں
سب پہ تو ہی تو ہے مہرباں
ہم تیرے در سے جائے کہاں
سب کی سنتا ہے تو ہی صدا
تو ہی رکھتا ہے سب کا بھرم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
بے کسوں کو سہارا ملے
ڈوبتوں کو کنارا ملے
سر سے طوفان پل میں ٹلے
جو تیرا یک اشارا ملے
تو جو کر دے مہربانیاں
دور ہو جائے ہر ایک غم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
حالیہ پوسٹیں
- رشکِ قمر ہوں رنگِ رخِ آفتاب ہوں
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- کہتے ہیں عدی بن مسافر
- احمد کہُوں ک ہحامدِ یکتا کہُوں تجھے
- مرحبا عزت و کمالِ حضور
- اُسی کا حکم جاری ہے زمینوں آسمانوں میں
- یوں تو سارے نبی محترم ہیں سرورِ انبیا تیری کیا بات ہے
- سر محشر شفاعت کے طلب گاروں میں ہم بھی ہیں
- کون ہو مسند نشیں خاکِ مدینہ چھوڑ کر
- دل میں ہو یاد تری گوشۂ تنہائی ہو
- مولاي صل و سلم دائما أبدا
- نہیں خوش بخت محتاجانِ عالم میں کوئی ہم سا
- چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط
- اینویں تے نیئیں دل دا قرار مُک چلیا
- خزاں کی شام کو صبحِ بہار تُو نے کیا
- کبھی خزاں کبھی فصلِ بہار دیتا ہے
- باغ‘جنت کے ہیں بہرِ مدح خوانِ اہلِ بیت
- جنہاں نوں اے نسبت او تھاواں تے ویکھو
- تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
- وہی جو خالق جہان کا ہے وہی خدا ہے وہی خدا ہے