رسولوں میں بایں صورت امام المرسلیںﷺ آئے
کہ جیسے بزمِ انجم میں کوئی ماہِ مبیں آئے
خبر کیا ہم کو زاہد راستے میں تجھ پہ کیا گذری
مدینے سے جو ہم نکلے تو فردوسِ بریں آئے
تِری ذاتِ مبارک وجہِ تخلیقِ دو عالم ہے
بہ الفاظِ دگر تیرے لیے دنیا و دیں آئے
سرِ محشر نگاہِ منتظر تو جن کی جویا ہے
ابھی آئے، ابھی آئے، یہیں آئے، یہیں آئے
جو مجنوں بن کے کھو جائے خیالِ دشتِ طیبہ میں
اُسے آغوش میں لینے نہ کیوں خلدِ بریں آئے
زمانہ مبتلا تھا وہم کی پوجا میں سرتاپا
تِرےقدموں کی برکت ہے کہ آدابِ یقیں آئے
امام المرسلیں آئے
حالیہ پوسٹیں
- صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا
- حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے
- بے خُود کِیے دیتے ہیں اَندازِ حِجَابَانَہ
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- قصیدۂ معراج
- سرور انبیاء کی ہے محفل سجی
- ہے کلامِ الٰہی میں شمس و ضحی ترے چہرہ ءِ نور فزا کی قسم
- یا رب میری سوئی ہوئی تقدیر جگا دے
- غلام حشر میں جب سید الوریٰ کے چلے
- بڑی مشکل یہ ہے جب لب پہ تیرا ذکر آتا ہے
- طیبہ نگری کی گلیوں میں دل کی حالت مت پوچھو
- نامِ نبیؐ تو وردِ زباں ہے ناؤ مگر منجدھار میں ہے
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- جتنا مرے خدا کو ہے میرا نبی عزیز
- عشق کے رنگ میں رنگ جائیں جب افکار تو کھلتے ہیں
- دل پھر مچل رہا ہے انکی گلی میں جاؤں
- خطا کار ہوں با خدا مانتا ہوں
- مرا پیمبر عظیم تر ہے
- سرکار یہ نام تمھارا سب ناموں سے ہے پیارا
- کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے