بارہ ربیع الاول كے دن ابرِ بہارا چھائے میرے سرکار آئے
آمنہ تیرے گھر آنگن خوشیوں كےبادَل چھائے میرے سرکار آئے
دور ہوا دنیا سے اندھیرا ، آئے آقا ہوا سویرا
عبداللہ كے گھر آنگن خوشیوں كےبادَل چھائے میرے سرکار آئے
بارہ ربیع الاول كے دن ابرِ بہارا چھائے میرے سرکار آئے
سوکھی تھی گلشن میں کلیاں ، سونی تھی مکے کی گلیاں
اُن کے قدم سے چاروں جانب ، ہو گئے نور كے سائے میرے سرکار آئے
بارہ ربیع الاول كے دن ابرِ بہارا چھائے میرے سرکار آئے
مشکل تیری ٹلّ جائے گی ، سوکھی کھیتی پھل جائے گی
دائی حلیمہ تیرے سوئے بھاگ جگانے آئے میرے سرکار آئے
بارہ ربیع الاول كے دن ابرِ بہارا چھائے میرے سرکار آئے
جو ہیں سب نبیوں كے سرور ، سارے مسیحا خلق كے رہبر
جھولی بھرنا کام ہے جن کا آج وہ داتا آئے میرے سرکار آئے
بارہ ربیع الاول كے دن ابرِ بہارا چھائے میرے سرکار آئے
مجھ کو ملا پیغام یہ محسن ، دنیا کو بتلا دے محسن
جو ہے نبی کا چاہنے والا ، اپنے گھر کو سجائے میرے سرکار آئے
بارہ ربیع الاول كے دن ابرِ بہارا چھائے میرے سرکار آئے
بارہ ربیع الاول كے دن ابرِ بہارا چھائے
حالیہ پوسٹیں
- خلق کے سرور شافع محشر صلی اللہ علیہ وسلم
- حُضور! آپ کا رُتبہ نہ پا سکا کوئی
- تڑپ رہاں ہوں میں کب سے یا رب
- میں کہاں اور تیری حمد کا مفہوم کہاں
- عاصیوں کو در تمھارا مل گیا
- ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺍﻣﺎﻥ ﺷﻔﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎﺋﮯ ﺭﮐﮭﻨﺎ
- نور کس کا ہے چاند تاروں میں
- منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے
- پل سے اتارو ، راہ گزر کو خبر نہ ہو
- صدائیں درودوں کی آتی رہیں گی میرا سن کے دل شاد ہوتا رہے گا
- وَرَفَعنا لَکَ ذِکرَک
- یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا
- کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے
- کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج
- طوبےٰ میں جو سب سے اونچی نازک سیدھی نکلی شاخ
- ہتھ بنھ کے میں ترلے پانواں مینوں سد لو مدینے آقا
- شبنم میں شراروں میں گلشن کی بہاروں میں
- میں مدینے چلا میں مدینے چلا
- بیبا عاشقاں دے رِیت تے رواج وکھرے
- یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی