حُسن سارے کا سارا مدینے میں ہے
ربِ اعلیٰ کا پیارا مدینے میں ہے
غم کے مارو چلو سوئے طیبہ چلو
غمزدوں کا سہارا مدینے میں ہے
جنتوں کے طلبگارو تم بھی سنو
جنتوں کا نظارا مدینے میں ہے
پوجنے والو شمس و قمر جان لو
دو جہاں کا اجالا مدینے میں ہے
دور رہ کر مدینے سے کیسے جیئیں
کملی والا ہمارا مدینے میں ہے
حُسن سارے کا سارا مدینے میں ہے
حالیہ پوسٹیں
- میں مدینے چلا میں مدینے چلا
- عشق کے رنگ میں رنگ جائیں جب افکار تو کھلتے ہیں
- تڑپ رہاں ہوں میں کب سے یا رب
- عشقِ مولیٰ میں ہو خوں بار کنارِ دامن
- دلوں کی ہے تسکیں دیارِ مدینہ
- عجب کرم شہ والا تبار کرتے ہیں
- میرا تو سب کچھ میرا نبی ہے
- بس میرا ماہی صل علیٰ
- جانبِ مغرب وہ چمکا آفتاب
- بندہ قادر کا بھی قادر بھی ہے عبدالقادر
- جنہاں نوں اے نسبت او تھاواں تے ویکھو
- سر محشر شفاعت کے طلب گاروں میں ہم بھی ہیں
- ہے کلامِ الٰہی میں شمس و ضحی ترے چہرہ ءِ نور فزا کی قسم
- میں بھی روزے رکھوں گا یا اللہ توفیق دے
- تیرا ذکر میری ہے زندگی تیری نعت میری ہے بندگی
- اشارے سے چاند چیر دیا چھپے ہوئے خور کو پھیر لیا
- نظر اک چمن سے دوچار ہے نہ چمن چمن بھی نثار ہے
- میں تو امتی ہوں اے شاہ اُمم
- بندہ ملنے کو قریبِ حضرتِ قادر گیا
- خزاں سے کوئی طلب نہیں ھے