حُسن سارے کا سارا مدینے میں ہے
ربِ اعلیٰ کا پیارا مدینے میں ہے
غم کے مارو چلو سوئے طیبہ چلو
غمزدوں کا سہارا مدینے میں ہے
جنتوں کے طلبگارو تم بھی سنو
جنتوں کا نظارا مدینے میں ہے
پوجنے والو شمس و قمر جان لو
دو جہاں کا اجالا مدینے میں ہے
دور رہ کر مدینے سے کیسے جیئیں
کملی والا ہمارا مدینے میں ہے
حُسن سارے کا سارا مدینے میں ہے
حالیہ پوسٹیں
- پوچھتے کیا ہو مدینے سے میں کیا لایا ہوں
- اٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ، کہ نور باری حجاب میں ہے
- دل دیاں گلاں میں سناواں کس نوں
- نظر اک چمن سے دوچار ہے نہ چمن چمن بھی نثار ہے
- سُن کملے دِلا جے توں چاھنا ایں وسنا
- لبوں پر ذکرِ محبوبِ خدا ہے
- ہر وقت تصور میں مدینے کی گلی ہو
- نہ آسمان کو یوں سر کشیدہ ہونا تھا
- محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا
- نہ پوچھو کہ کیا ہیں ہمارے محمدؐ
- سچ کہواں رب دا جہان بڑا سوھنا اے
- ادھر بھی نگاہِ کرم یا محمد ! صدا دے رہے ہیں یہ در پر سوالی
- ہو اگر مدحِ کفِ پا سے منور کاغذ
- نعت سرکاؐر کی پڑھتاہوں میں
- تسکینِ دل و جاں ہیں طیبہ کے نظارے بھی
- لم یات نطیرک فی نظر، مثل تو نہ شد پیدا جانا
- مرحبا عزت و کمالِ حضور
- شمعِ دیں کی کیسے ہوسکتی ہے مدہم روشنی
- بس! محمد ہے نبی سارے زمانے والا
- بندہ ملنے کو قریبِ حضرتِ قادر گیا