حُسن سارے کا سارا مدینے میں ہے
ربِ اعلیٰ کا پیارا مدینے میں ہے
غم کے مارو چلو سوئے طیبہ چلو
غمزدوں کا سہارا مدینے میں ہے
جنتوں کے طلبگارو تم بھی سنو
جنتوں کا نظارا مدینے میں ہے
پوجنے والو شمس و قمر جان لو
دو جہاں کا اجالا مدینے میں ہے
دور رہ کر مدینے سے کیسے جیئیں
کملی والا ہمارا مدینے میں ہے
حُسن سارے کا سارا مدینے میں ہے
حالیہ پوسٹیں
- خوشی سب ہی مناتے ہیں میرے سرکار آتے ہیں
- ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
- طوبےٰ میں جو سب سے اونچی نازک سیدھی نکلی شاخ
- گلزارِ مدینہ صلِّ علیٰ،رحمت کی گھٹا سبحان اللّٰٰہ
- میں بھی روزے رکھوں گا یا اللہ توفیق دے
- تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
- اگر چمکا مقدر خاک پاے رہرواں ہو کر
- ساقیا کیوں آج رِندوں پر ہے تو نا مہرباں
- دل میں بس گئے یارو طیبہ کے نظارے ہیں
- اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے
- یا محمد نورِ مجسم یا حبیبی یا مولائی
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- مل گئی دونوں عالم کی دولت ہاں درِ مصطفیٰ مل گیا ہے
- نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں
- طرب انگیز ہے راحت فزا ہے کیف ساماں ہے
- یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
- تلو مونی علی ذنب عظیم
- قبلہ کا بھی کعبہ رُخِ نیکو نظر آیا
- ذکرِ احمد میں گزری جو راتیں حال انکا بتایا نہ جائے
- وہ یوں تشریف لائے ہم گنہ گاروں کے جھرمٹ میں