دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
کہ انسان اعلیٰ تیرے نام سے ہے
تو رحمت سرا سر تو بخشش سرا سر
گناہ کا ازالہ تیرے نام سے ہے
کوئی جل کے تجھ سے عمل کھو رہا ہے
کوئی شان والا تیرے نام سے ہے
تیری ذات ہے رونقِ دین و دنیا
جہاں اتنا پیارا تیرے نام سے ہے
سبھی کائناتوں میں جاں تیرے دم سے
یہ دلکش نظارا تیرے نام سے ہے
میں محبوؔب کیوں نہ جپوں نام تیرا
کہ میرا گزارا تیرے نام سے ہے
دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
حالیہ پوسٹیں
- سر محشر شفاعت کے طلب گاروں میں ہم بھی ہیں
- اول حمد ثناء الہی جو مالک ہر ہر دا
- اس کرم کا کروں شکر کیسے ادا جو کرم مجھ پہ میرے نبی کر دیا
- رب دے پیار دی اے گل وکھری
- دل و نگاہ کی دنیا نئی نئی ہوئی ہے
- اُسی کا حکم جاری ہے زمینوں آسمانوں میں
- جو گزریاں طیبہ نگری وچ او گھڑیاں مینوں بھلدیاں نئیں
- خندہ پیشانی سے ہر صدمہ اُٹھاتے ہیں حسین
- فضلِ رَبّْ العْلیٰ اور کیا چاہیے
- محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا
- غلام حشر میں جب سید الوریٰ کے چلے
- نہ پوچھو کہ کیا ہیں ہمارے محمدؐ
- اینویں تے نیئیں دل دا قرار مُک چلیا
- جا زندگی مدینے سے جھونکے ہوا کے لا
- مل گئی دونوں عالم کی دولت ہاں درِ مصطفیٰ مل گیا ہے
- کعبے پہ پڑی جب پہلی نظر، کیا چیز ہے دنیا بھول گیا
- ہر وقت تصور میں مدینے کی گلی ہو
- مجھ پہ چشمِ کرم اے میرے آقا کرنا
- یا محمد نورِ مجسم یا حبیبی یا مولائی
- گل ا ز رخت آمو ختہ نازک بدنی را بدنی را