دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
کہ انسان اعلیٰ تیرے نام سے ہے
تو رحمت سرا سر تو بخشش سرا سر
گناہ کا ازالہ تیرے نام سے ہے
کوئی جل کے تجھ سے عمل کھو رہا ہے
کوئی شان والا تیرے نام سے ہے
تیری ذات ہے رونقِ دین و دنیا
جہاں اتنا پیارا تیرے نام سے ہے
سبھی کائناتوں میں جاں تیرے دم سے
یہ دلکش نظارا تیرے نام سے ہے
میں محبوؔب کیوں نہ جپوں نام تیرا
کہ میرا گزارا تیرے نام سے ہے
دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
حالیہ پوسٹیں
- نبی سَروَرِ ہر رسول و ولی ہے
- میں تو امتی ہوں اے شاہ اُمم
- اگر چمکا مقدر خاک پاے رہرواں ہو کر
- حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو
- سر تا بقدم ہے تن سلطان زمن پھول
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- لبوں پر ذکرِ محبوبِ خدا ہے
- شمعِ دیں کی کیسے ہوسکتی ہے مدہم روشنی
- تو سب کا رب سب تیرے گدا
- کرے مدحِ شہِ والا، کہاں انساں میں طاقت ہے
- خدا کی خدائی کے اسرار دیکھوں
- یہ چاند ستارے بھی دیتے ہیں خراج اُن کو
- دل میں بس گئے یارو طیبہ کے نظارے ہیں
- میں کہاں اور تیری حمد کا مفہوم کہاں
- آج آئے نبیوں کے سردار مرحبا
- طیبہ نگری کی گلیوں میں دل کی حالت مت پوچھو
- سر محشر شفاعت کے طلب گاروں میں ہم بھی ہیں
- دل رہ گیا ہے احمدِ مختار کی گلی میں
- وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں
- کدی میم دا گھونگھٹ چا تے سہی