دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
کہ انسان اعلیٰ تیرے نام سے ہے
تو رحمت سرا سر تو بخشش سرا سر
گناہ کا ازالہ تیرے نام سے ہے
کوئی جل کے تجھ سے عمل کھو رہا ہے
کوئی شان والا تیرے نام سے ہے
تیری ذات ہے رونقِ دین و دنیا
جہاں اتنا پیارا تیرے نام سے ہے
سبھی کائناتوں میں جاں تیرے دم سے
یہ دلکش نظارا تیرے نام سے ہے
میں محبوؔب کیوں نہ جپوں نام تیرا
کہ میرا گزارا تیرے نام سے ہے
دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
حالیہ پوسٹیں
- ایمان ہے قال مصطفائی
- طیبہ کی ہے یاد آئی اب اشک بہانے دو
- سب کچھ ہے خدا،اُس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
- قربان میں اُن کی بخشش کے مقصد بھی زباں پر آیا نہیں
- پیغام صبا لائی ہے گلزار نبی سے
- کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے
- ادھر بھی نگاہِ کرم یا محمد ! صدا دے رہے ہیں یہ در پر سوالی
- پل سے اتارو ، راہ گزر کو خبر نہ ہو
- سر سوئے روضہ جھکا پھر تجھ کو کیا
- طلسماتِ شب بے اثر کرنے والا
- احمد کہُوں ک ہحامدِ یکتا کہُوں تجھے
- یہ دنیا اک سمندر ہے مگر ساحل مدینہ ہے
- تو شاہِ خوباں، تو جانِ جاناں، ہے چہرہ اُم الکتاب تیرا
- سن لو خدا کے واسطے اپنے گدا کی عرض
- سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
- اے دینِ حق کے رہبر تم پر سلام ہر دم
- لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی
- وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- کعبے پہ پڑی جب پہلی نظر، کیا چیز ہے دنیا بھول گیا