دلوں کی ہے تسکیں دیارِ مدینہ
ہے جنت سے بڑھ کے غبارِ مدینہ
چلو سر کے بل اے میرے ہم سفیرو
کہ دِکھنے لگے ہیں آثارِ مدینہ
یہاں پھول کھل کے بکھرتے نہیں ہیں
خزاں سے مبرا بہارِ مدینہ
فلک جسکی چوٹی پہ بوسہ کناں ہے
ہے کتنا بلند وہ مینارِ مدینہ
اِسے نارِ دوزخ جلائے گی کیسے
ہے محبوؔب بھی خاکسارِ مدینہ
دلوں کی ہے تسکیں دیارِ مدینہ
حالیہ پوسٹیں
- پڑے مجھ پر نہ کچھ اُفتاد یا غوث
- توانائی نہیں صدمہ اُٹھانے کی ذرا باقی
- آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لئے
- طیبہ کی ہے یاد آئی اب اشک بہانے دو
- خدا کی خدائی کے اسرار دیکھوں
- کیا جھومتے پھرتے ہیں مے خوار مدینے میں
- خدا کی قسم آپ جیسا حسیں
- اپنی نسبت سے میں کچھ نہیں ہوں، اس کرم کی بدولت بڑا ہوں
- غلام حشر میں جب سید الوریٰ کے چلے
- میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں
- تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے
- خاکِ طیبہ کی اگر دل میں ہو وقعت محفوظ
- وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں
- پیغام صبا لائی ہے گلزار نبی سے
- سب کچھ ہے خدا،اُس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
- اسیروں کے مشکل کشا غوث اعظم
- سرور انبیاء کی ہے محفل سجی
- نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں
- ترے دَر پہ ساجد ہیں شاہانِ عالم
- دمِ حشر جب نہ کسی کو بھی تیرے بن ملے گی امان بھی