دلوں کی ہے تسکیں دیارِ مدینہ
ہے جنت سے بڑھ کے غبارِ مدینہ
چلو سر کے بل اے میرے ہم سفیرو
کہ دِکھنے لگے ہیں آثارِ مدینہ
یہاں پھول کھل کے بکھرتے نہیں ہیں
خزاں سے مبرا بہارِ مدینہ
فلک جسکی چوٹی پہ بوسہ کناں ہے
ہے کتنا بلند وہ مینارِ مدینہ
اِسے نارِ دوزخ جلائے گی کیسے
ہے محبوؔب بھی خاکسارِ مدینہ
دلوں کی ہے تسکیں دیارِ مدینہ
حالیہ پوسٹیں
- افکار کی لذت کیا کہنا جذبات کا عالم کیا کہنا
- اگر چمکا مقدر خاک پاے رہرواں ہو کر
- لو آگئے میداں میں وفادارِ صحابہ
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- طیبہ کی ہے یاد آئی اب اشک بہانے دو
- راتیں بھی مدینے کی باتیں بھی مدینے کی
- پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
- حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو
- کیا مہکتے ہیں مہکنے والے
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- آج اشک میرے نعت سنائیں تو عجب کیا
- سارے نبیوں کے عہدے بڑے ہیں لیکن آقا کا منصب جدا ہے
- جو گزریاں طیبہ نگری وچ او گھڑیاں مینوں بھلدیاں نئیں
- تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
- کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
- نہ زر نہ ہی جاہ و حشم کی طلب ہے
- سلام ائے صبحِ کعبہ السلام ائے شامِ بت خانہ
- توانائی نہیں صدمہ اُٹھانے کی ذرا باقی
- کس کے جلوے کی جھلک ہے یہ اجالا کیا ہے
- سر سوئے روضہ جھکا پھر تجھ کو کیا