ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
نظر اساڈی تیری راہ اُتے ٹِکی اے
تساں دو جہاناں لئی رحمتاں ای رحمتاں
بیڑی میری فیر کیوں راہ وچ رُکی اے
میریاں گناہواں دا شمار آقا کوئی نہ
عملاں تو خالی جھولی تیرے اگے وچھی اے
دنیا دی لوڑ اے نہ دنیا دی پرواہ
اساں تے نماز تیرے عشقے دی نیتی اے
تیرے درِ پاک اُتے ہر گھڑی ہر پل
کلا میں نیئیں جُھکدا خدائی ساری جھکی اے
آقا تیری رحمتاں دی حد نہ شمار
ہر پاسے ایہو ای دہائی مچی اے
ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
حالیہ پوسٹیں
- روک لیتی ہے آپ کی نسبت تیر جتنے بھی ہم پہ چلتے ہیں
- میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں
- کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج
- اسیروں کے مشکل کشا غوث اعظم
- میں گدائے دیارِ نبی ہوں پوچھیئے میرے دامن میں کیا ہے
- دل میں بس گئے یارو طیبہ کے نظارے ہیں
- اک خواب سناواں
- کدی میم دا گھونگھٹ چا تے سہی
- دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
- ہم تمہارے ہوکے کس کے پاس جائیں
- پل سے اتارو ، راہ گزر کو خبر نہ ہو
- کبھی خزاں کبھی فصلِ بہار دیتا ہے
- تڑپ رہاں ہوں میں کب سے یا رب
- تمھارے در سے اٹھوں میں تشنہ زمانہ پوچھے تو کیا کہوں گا
- احمد کہُوں ک ہحامدِ یکتا کہُوں تجھے
- جس کو کہتے ہیں قیامت حشر جس کا نام ہے
- لحد میں عشقِ رُخِ شہ کا داغ لے کے چلے
- اے رسولِ امیںؐ ، خاتم المرسلیںؐ
- دونوں جہاں کا حسن مدینے کی دُھول ہے
- نارِ دوزخ کو چمن کر دے بہارِ عارض