ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
نظر اساڈی تیری راہ اُتے ٹِکی اے
تساں دو جہاناں لئی رحمتاں ای رحمتاں
بیڑی میری فیر کیوں راہ وچ رُکی اے
میریاں گناہواں دا شمار آقا کوئی نہ
عملاں تو خالی جھولی تیرے اگے وچھی اے
دنیا دی لوڑ اے نہ دنیا دی پرواہ
اساں تے نماز تیرے عشقے دی نیتی اے
تیرے درِ پاک اُتے ہر گھڑی ہر پل
کلا میں نیئیں جُھکدا خدائی ساری جھکی اے
آقا تیری رحمتاں دی حد نہ شمار
ہر پاسے ایہو ای دہائی مچی اے
ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
حالیہ پوسٹیں
- رشک کیوں نہ کروں انکی قسمت پہ میں
- اینویں تے نیئیں دل دا قرار مُک چلیا
- پوچھتے کیا ہو عرش پر یوں گئے مصطفیٰ کہ یوں
- طیبہ نگری کی گلیوں میں دل کی حالت مت پوچھو
- خوشی سب ہی مناتے ہیں میرے سرکار آتے ہیں
- وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
- نہ زر نہ ہی جاہ و حشم کی طلب ہے
- خدا کی قسم آپ جیسا حسیں
- شجرہ نصب نبی اکرم محمد صلی اللہ وسلم
- یا رب میری آہوں میں اثرہے کہ نہیں ہے
- عرش پر بھی ہے ذکرِ شانِ محؐمد
- عاصیوں کو دَر تمہارا مل گیا
- مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ
- پھر دل میں بہاراں کے آثار نظر آئے
- جو ہوچکا ہے جو ہوگا حضور جانتے ہیں
- مئے حُبِّ نبی سے جس کا دل سرشار ہو جائے
- شورِ مہِ نَو سن کر تجھ تک میں دَواں آیا
- یوں تو سارے نبی محترم ہیں سرورِ انبیا تیری کیا بات ہے
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- کبھی ان کی خدمت میں جا کے تودیکھو