سب دواروں سے بڑا شاہا دوارا تیرا
سب سہاروں سے بڑا ایک سہارا تیرا
موت کے بعد بھی میں تیرے ہی قدموں میں رہوں
در کبھی ہاتھ سے چُھوٹے نہ خدارا تیرا
تیرے دیدار کی ہر دل میں تمنا آقا
خالقِ کُل بھی کرے ہے جو نظارا تیرا
عاصیوں اور گنہگاروں کی بخشش کے لیے
رحمتِ حق نے شاہا روپ ہے دھارا تیرا
حق نے ہر دور میں ہے دادرسی کی اسکی
جس کسی نے بھی شاہا نام پکارا تیرا
کِس میں ہمت کہ ترے حکم سے روگرداں ہو
چاند دو ٹُکڑے ہوا دیکھ اشارا تیرا
اے مدینے کے چمن تیری بہاروں کی قسم
جنتوں سے بھی حسیں تر ہے نظارا تیرا
کوئی نہ پاٹ سکا آج تلک کیوں تجھ کو
بحر عشاق کہاں گم ہے کنارا تیرا
کوئی بھی چیز تو اپنی نہیں محبوؔب کے پاس
اور کچھ کیا میں گِنوں سانس ادھار تیرا
سب دواروں سے بڑا شاہا دوارا تیرا
حالیہ پوسٹیں
- کیا بتاؤں کہ شہرِ نبی میں پہنچ جانا ہے کتنی سعادت
- گلزارِ مدینہ صلِّ علیٰ،رحمت کی گھٹا سبحان اللّٰٰہ
- سنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رسائی ہے
- جذب و جنوں میں انکی بابت جانے کیا کیا بول گیا
- آج آئے نبیوں کے سردار مرحبا
- رکتا نہیں ہرگز وہ اِدھر باغِ ارم سے
- طیبہ والا جدوں دا دیار چھٹیا
- افکار کی لذت کیا کہنا جذبات کا عالم کیا کہنا
- دعا
- عاصیوں کو دَر تمہارا مل گیا
- فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ، ہم بھی بے بس نہیں ، بے سہارا نہیں
- الٰہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہوں
- بندہ ملنے کو قریبِ حضرتِ قادر گیا
- نظر اک چمن سے دوچار ہے نہ چمن چمن بھی نثار ہے
- تڑپ رہاں ہوں میں کب سے یا رب
- تم بات کرو ہونہ ملاقات کرو ہو
- اے حبِّ وطن ساتھ نہ یوں سوے نجف جا
- کہتے ہیں عدی بن مسافر
- زہے عزت و اعتلائے محمد
- جاں بلب ہوں آ مری جاں الغیاث