فلک پہ دیکھا زمیں پہ دیکھا عجیب تیرا مقام دیکھا
خلد کے غنچوں پہ عرشِ حق پہ سبھی جگہ تیرا نام دیکھا
تو کیا ہے اور کیا نہیں ہے شاہا تیری حقیقت خدا ہی جانے
دہن بھی تیرا زباں بھی تیری کلام رب کا کلام دیکھا
خدائے بر تر کو تیری مدحت قسم خدا کی ہے اتنی پیاری
کہ جس نے تجھ پہ درود بھیجا خدا کا اس پہ انعام دیکھا
ہاں اسمِ احمد کو جس کسی نے پیار سے بے خودی میں چوما
تو آنکھ والوں نے نارِ دوزخ کو اس بشر پہ حرام دیکھا
معراج کی شب جو انبیاء سب صفوں میں تھے انتظار کرتے
تو چشمِ اقصیٰ نے میرے آقا کو انبیاء کا امام دیکھا
فلک پہ دیکھا زمیں پہ دیکھا عجیب تیرا مقام دیکھا
حالیہ پوسٹیں
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- تیری شان پہ میری جان فدا
- غم ہو گئے بے شمار آقا
- اے کہ ترے جلال سے ہل گئی بزمِ کافری
- کوئی سلیقہ ہے آرزو کا ، نہ بندگی میری بندگی ہے
- سرکار دو عالم کے رخ پرانوار کا عالم کیا ہوگا
- سلام ائے صبحِ کعبہ السلام ائے شامِ بت خانہ
- عشقِ مولیٰ میں ہو خوں بار کنارِ دامن
- چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط
- کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
- آج اشک میرے نعت سنائیں تو عجب کیا
- نعت سرکاؐر کی پڑھتاہوں میں
- کیا جھومتے پھرتے ہیں مے خوار مدینے میں
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- طرب انگیز ہے راحت فزا ہے کیف ساماں ہے
- الصُّبْحُ بدَا مِنْ طَلْعَتِہ
- ہے پاک رُتبہ فکر سے اُس بے نیاز کا
- وَرَفَعنا لَکَ ذِکرَک
- پوچھتے کیا ہو عرش پر یوں گئے مصطفیٰ کہ یوں