مجھ کو طیبہ میں بلا لو شاہ زمنی
شاہ زمنی آقامکی مدنی
دل کی حسرت یہ نکالو شاہ زمنی
شاہ زمنی آقامکی مدنی
نگر نگر اور ڈگر ڈگر پھرتا ہوں مارا مارا
مجھ دکھیا کا اس دنیا میں کوئی نہیں سہارا
تم ہی سینے سے لگا لو شاہ زمنی
شاہ زمنی آقامکی مدنی
جو بھی پہنچا تیرے در پر لوٹا کبھی نہ خالی
ہر منگتے کی جھولی تم نے رحمت سے بھر ڈالی
تم ہو ایسے ہی دیالو شاہ زمنی
شاہ زمنی آقامکی مدنی
تیری زیارت کے ہیں طالب کر دو دور یہ دوری
ہمیں دکھا دو اپنا جلوہ حسرت ہو یہ پوری
چہرہ نورانی دکھا دو شاہ زمنی
شاہ زمنی آقامکی مدنی
روتے روتے عمر گزاری ملن کی شام نہ آئی
کیا میرے آقا آپ کو میری ادا پسند نہ آئی
پھر کیوں تم نے دیر لگائی شاہ زمنی
شاہ زمنی آقامکی مدنی
ہریالے گنبد کامنظر جنت سے ہے پیارا
کعبے کا کعبہ ہے روزہ پیارے نبی تمہارا
جالی روزے کی دکھا دو شاہ زمنی
شاہ زمنی آقامکی مدنی
مجھ کو طیبہ میں بلا لو شاہ زمنی
حالیہ پوسٹیں
- مجھ پہ بھی میرے آقا گر تیرا کرم ہووے
- کیا بتاؤں کہ شہرِ نبی میں پہنچ جانا ہے کتنی سعادت
- طیبہ دیاں گلاں صبح و شام کریے
- یہ حقیقت ہے کہ جینا وہی جینا ہوگا
- طیبہ نگری کی گلیوں میں دل کی حالت مت پوچھو
- اے حبِّ وطن ساتھ نہ یوں سوے نجف جا
- محمد مظہر کامل ہے حق کی شان عزت کا
- خدا کی خدائی کے اسرار دیکھوں
- آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لئے
- مجھ پہ چشمِ کرم اے میرے آقا کرنا
- شہنشاہا حبیبا مدینہ دیا خیر منگناہاں میں تیری سرکار چوں
- منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے
- بے اجازت اُس طرف نظریں اٹھا سکتا ہے کون
- جس نے مدینے جانڑاں کر لو تیاریاں
- اشارے سے چاند چیر دیا چھپے ہوئے خور کو پھیر لیا
- تمھارے در سے اٹھوں میں تشنہ زمانہ پوچھے تو کیا کہوں گا
- یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
- ہتھ بنھ کے میں ترلے پانواں مینوں سد لو مدینے آقا
- رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ
- اٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ، کہ نور باری حجاب میں ہے