میرے مولا کرم ہو کرم
تجھ سے فریاد کرتے ہیں ہم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
یہ زمیں اور یہ آسما
تیرے قبضے میں ہیں دو جہاں
سب پہ تو ہی تو ہے مہرباں
ہم تیرے در سے جائے کہاں
سب کی سنتا ہے تو ہی صدا
تو ہی رکھتا ہے سب کا بھرم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
بے کسوں کو سہارا ملے
ڈوبتوں کو کنارا ملے
سر سے طوفان پل میں ٹلے
جو تیرا یک اشارا ملے
تو جو کر دے مہربانیاں
دور ہو جائے ہر ایک غم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
حالیہ پوسٹیں
- دلوں کی ہے تسکیں دیارِ مدینہ
- عشق کے رنگ میں رنگ جائیں جب افکار تو کھلتے ہیں
- کبھی خزاں کبھی فصلِ بہار دیتا ہے
- ادھر بھی نگاہِ کرم یا محمد ! صدا دے رہے ہیں یہ در پر سوالی
- ہے پاک رُتبہ فکر سے اُس بے نیاز کا
- نہیں خوش بخت محتاجانِ عالم میں کوئی ہم سا
- باغ‘جنت کے ہیں بہرِ مدح خوانِ اہلِ بیت
- آج آئے نبیوں کے سردار مرحبا
- تُو کجا من کجا
- بے اجازت اُس طرف نظریں اٹھا سکتا ہے کون
- بھر دو جھولی میری یا محمد
- بے خُود کِیے دیتے ہیں اَندازِ حِجَابَانَہ
- ہو اگر مدحِ کفِ پا سے منور کاغذ
- ایمان ہے قال مصطفائی
- خدا کی قسم آپ جیسا حسیں
- حالِ دل کس کو سنائیں آپ کے ہوتے ہوئے
- افکار کی لذت کیا کہنا جذبات کا عالم کیا کہنا
- فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ، ہم بھی بے بس نہیں ، بے سہارا نہیں
- اے دینِ حق کے رہبر تم پر سلام ہر دم
- جنہاں نوں اے نسبت او تھاواں تے ویکھو