میں کہاں پہنچ گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
حیرت سے گم کھڑا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
میں اک حقیر ذرہ تیری رحمتوں کے صدقے
خالق سے مل گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
تیری نعت یا محمد خالق کا ورد ٹھہرا
میں نعت خواں بنا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
نہ پاس زادِ راہ ہے نہ ہی کوئی قافلہ ہے
طیبہ کو چل پڑا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
جھولی عمل سے خالی میں بے نوا سوالی
تیرے در پہ آگیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
تیرے در کی نعمتوں میں تیری پاک محفلوں میں
میں سراپا کھو گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
میں کہاں پہنچ گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
حالیہ پوسٹیں
- اے سبز گنبد والے منظور دعا کرنا
- رحمتِ حق ہے جلوہ فگن طیبہ کے بازاروں میں
- آج آئے نبیوں کے سردار مرحبا
- اک خواب سناواں
- کرے چارہ سازی زیارت کسی کی بھرے زخم دل کے ملاحت کسی کی
- صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا
- ہو ورد صبح و مسا لا الہ الا اللہ
- تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے
- لو مدینے کی تجلی سے لگائے ہوئے ہیں
- رُبا عیات
- اے دینِ حق کے رہبر تم پر سلام ہر دم
- طیبہ والا جدوں دا دیار چھٹیا
- پھر اٹھا ولولۂ یادِ مغیلانِ عرب
- حدودِ طائر سدرہ، حضور جانتے ہیں
- اج سک متراں دی ودھیری اے
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- حمدِ خدا میں کیا کروں
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- سچ کہواں رب دا جہان بڑا سوھنا اے
- نہیں خوش بخت محتاجانِ عالم میں کوئی ہم سا