نعت سرکاؐر کی پڑھتاہوں میں
بس اسی بات سے گھرمیں میرے رحمت ہو گی
اک تیرا نام وسیلہ ہے میرا
رنج و غم میں بھی اسی نام سے راحت ہو گی
یہ سناہے کہ بہت قبر اندھیری ہوگی
قبر کا خوف نہ رکھنا لوگووہاں سرکاؐر کے چہرے کی زیارت ہوگی
کبھی یٰسیں کبھی طٰہٰ کبھی وَالَّیل آیا
جس کی قسمیں میرا رب کھاتا ہے کتنی دلکش میرے محبوؐب کی صورت ہوگی
ان کو مختار بنایا میرے اللہ نے
خلد میں بس وہی جا سکتا ہے جس کو حسنینؓ کے باباؐ کی اجازت ہو گی
حشر کا دن بھی عجب دیکھنے والا ہو گا
زلف لہراتے وہ جب آئیں گے پھر قیامت پے بھی خود ایک قیامت ہوگی
میرا دامن تو گناہوں سے بھرا ہے الطافؔ
اک سہارا ہے کہ میں تیراہوں اسی نسبت سے سر حشر شفاعت ہوگی
نعت سرکاؐر کی پڑھتاہوں میں
حالیہ پوسٹیں
- تُو کجا من کجا
- اپنی نسبت سے میں کچھ نہیں ہوں، اس کرم کی بدولت بڑا ہوں
- کرے چارہ سازی زیارت کسی کی بھرے زخم دل کے ملاحت کسی کی
- وہ یوں تشریف لائے ہم گنہ گاروں کے جھرمٹ میں
- رُخ دن ہے یا مہرِ سما ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
- یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
- آج اشک میرے نعت سنائیں تو عجب کیا
- حلقے میں رسولوں کے وہ ماہِ مدنی ہے
- سب دواروں سے بڑا شاہا دوارا تیرا
- مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- پڑے مجھ پر نہ کچھ اُفتاد یا غوث
- غلام حشر میں جب سید الوریٰ کے چلے
- سرور انبیاء کی ہے محفل سجی
- کہو صبا سے کہ میرا سلام لے جائے
- بندہ قادر کا بھی قادر بھی ہے عبدالقادر
- رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ
- اینویں تے نیئیں دل دا قرار مُک چلیا
- حرزِ جاں ذکرِ شفاعت کیجئے
- مجھ پہ بھی میرے آقا گر تیرا کرم ہووے