چھائے غم کے بادل کالے
میری خبر اے بدرِ دُجیٰ لے
گرتا ہوں میں لغزشِ پا سے
آ اے ہاتھ پکڑنے والے
زُلف کا صدقہ تشنہ لبوں پر
برسا مہر و کرم کے جھالے
خاک مری پامال ہو کب تک
نیچے نیچے دامن والے
پھرتا ہوں میں مارا مارا
پیارے اپنے دَر پہ بُلا لے
کام کیے بے سوچے سمجھے
راہ چلا بے دیکھے بھالے
ناری دے کر خط غلامی
تجھ سے لیں جنت کے قبالے
تو ترے احساں میرے یاور
ہیں مرے مطلب تیرے حوالے
تیرے صدقے تیرے قرباں
میرے آس بندھانے والے
بگڑی بات کو تو ہی بنائے
ڈوبتی ناؤ کو تو ہی سنبھالے
تم سے جو مانگا فوراً پایا
تم نہیں کرتے ٹالے بالے
وسعت خوانِ کرم کے تصدق
دونوں عالم تم نے پالے
دیکھیں جنہوں نے تیری آنکھیں
وہ ہیں حق کے دیکھنے والے
تیرے عارض گورے گورے
شمس و قمر کے گھر کے اُجالے
اَبر لطف و غلافِ کعبہ
تیرے گیسو کالے کالے
آفت میں ہے غلامِ ہندی
تیری دُہائی مدینے والے
تنہا میں اے حامیِ بے کس
سینکڑوں ہیں دُکھ دینے والے
تیرے لطف ہوں میرے یاور
تیرا قہر عدو کو جا لے
آج ہے پیشی میں ہوں مجرم
زیر دامن مجھ کو چھپا لے
روزِ حساب اور مجھ سا عاصی
میری بگڑی بات بنا لے
تورے بل بل جاؤں کھویا
ندیا گہری نیّا ہالے
گھِر گھِر آئے گم کے بدرا
جیرا کانپت کملی والے
رین اندھیری دُور نگریا
توری دہائی جگ اُجیالے
تن من دھن کی سدھ بدھ بسری
موری کھبریا مورے پیا لے
نیناں کے بلہاری جاوے
درسن بھچّا جو منگتا لے
وا کو سمندر پار ہو جا دو
جا کو ڈراویں ندی نالے
اپنے حسین و حسن کے حسن کو
زہرِ کرب و بلا سے بچا لے
چھائے غم کے بادل کالے
حالیہ پوسٹیں
- ہے پاک رُتبہ فکر سے اُس بے نیاز کا
- سوہنا اے من موہنا اے آمنہ تیرا لال نی
- کیا جھومتے پھرتے ہیں مے خوار مدینے میں
- اے رسولِ امیںؐ ، خاتم المرسلیںؐ
- قبلہ کا بھی کعبہ رُخِ نیکو نظر آیا
- تیری جالیوں کے نیچے تیری رحمتوں کے سائے
- وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں
- نہ آسمان کو یوں سر کشیدہ ہونا تھا
- میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں
- مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ
- ہے کلامِ الٰہی میں شمس و ضحی ترے چہرہ ءِ نور فزا کی قسم
- مدینے کی جانب یہ عاصی چلا ہے
- کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
- تڑپ رہاں ہوں میں کب سے یا رب
- عشق کے رنگ میں رنگ جائیں جب افکار تو کھلتے ہیں
- اُجالی رات ہوگی اور میدانِ قُبا ہوگا
- جتنا مرے خدا کو ہے میرا نبی عزیز
- حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے
- چمن دلوں کے کھلانا، حضور جانتے ہیں
- اک خواب سناواں