کس کی مجال ہے کہ وہ حق تیرا ادا کرے
ہر کوئی اپنے واسطے نام تیرا جپا کرے
خالقِ کائنات بھی عرش کی جلوہ گاہ میں
ذکر تیرا کِیا کرے ذکر تیرا سنا کرے
اپنے خالق کی طرح تو بھی ہے پردوں میں نہاں
تیری شان کو بیاں کوئی کرے تو کیا کرے
جسکو بھی تیری ذات سے نسبت ہوئی دمک گیا
جو تیرے در پہ جھک گیا نار سے کیوں ڈرا کرے
بن دیکھے جسکی چاہ میں لاکھوں تڑپ رہے ہیں دل
محبوؔب دیکھ لے وہ در خود آنکھ سے خدا کرے
کس کی مجال ہے کہ وہ حق تیرا ادا کرے
حالیہ پوسٹیں
- عاصیوں کو در تمھارا مل گیا
- طیبہ سارے جگ توں جدا سوھنیا
- سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی
- خندہ پیشانی سے ہر صدمہ اُٹھاتے ہیں حسین
- الصُّبْحُ بدَا مِنْ طَلْعَتِہ
- کہاں میں بندۂ عاجز کہاں حمد و ثنا تیری
- یا محمد ہے سارا جہاں آپ کا
- سر محشر شفاعت کے طلب گاروں میں ہم بھی ہیں
- مجھ پہ بھی میرے آقا گر تیرا کرم ہووے
- میرے نبی پیارے نبی ؑ ہے مرتبہ بالا تیرا
- طور نے تو خوب دیکھا جلوۂ شان جمال
- گزرے جس راہ سے وہ سیدِ والا ہو کر
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- نہ کہیں سے دُور ہیں مَنزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے
- رُبا عیات
- دل رہ گیا ہے احمدِ مختار کی گلی میں
- صدائیں درودوں کی آتی رہیں گی میرا سن کے دل شاد ہوتا رہے گا
- ان کا منگتا ہوں جو منگتا نہیں ہونے دیتے
- مرا پیمبر عظیم تر ہے
- محمد مظہر کامل ہے حق کی شان عزت کا