تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
نہ کچھ اور اسکے سِوا مانگتے ہیں
اندھیروں میں ڈوبی ہوئی زندگی ہے
اے نورِ مجسم ضیاء مانگتے ہیں
حشر میں جہاں کوئی پُرساں نہ ہو گا
تیرے نام کا آسرا مانگتے ہیں
چھُٹے نہ کہیں کملی والے کا دامن
خدا سے یہی اِک دعا مانگتے ہیں
اگر جیتے جی پہنچ جائیں مدینے
تو واپس نہ آئیں قضا مانگتے ہیں
تیری دید بن اور جینا ہے مشکل
تیرے پاس رہنا سدا مانگتے ہیں
تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
حالیہ پوسٹیں
- جاں بلب ہوں آ مری جاں الغیاث
- تیری رحمتوں کا دریا سر عام چل رہا ہے
- ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺍﻣﺎﻥ ﺷﻔﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎﺋﮯ ﺭﮐﮭﻨﺎ
- عاصیوں کو دَر تمہارا مل گیا
- کہتے ہیں عدی بن مسافر
- خلق کے سرور شافع محشر صلی اللہ علیہ وسلم
- زہے مقدر حضور حق سے سلام آیا پیام آیا
- تھی جس کے مقدر میں گدائی ترے در کی
- میں تو امتی ہوں اے شاہ اُمم
- دشتِ مدینہ کی ہے عجب پُر بہار صبح
- پھر دل میں بہاراں کے آثار نظر آئے
- لو آگئے میداں میں وفادارِ صحابہ
- پاٹ وہ کچھ دَھار یہ کچھ زار ہم
- تنم فرسودہ، جاں پارہ ز ہجراں، یا رسول اللہ ۖ
- اُسی کا حکم جاری ہے زمینوں آسمانوں میں
- مجھے در پہ پھر بلانا مدنی مدینے والے
- راتیں بھی مدینے کی باتیں بھی مدینے کی
- تو شمع رسالت ہے عالم تیرا پروانہ
- دل مِرا دنیا پہ شیدا ہو گیا
- مولاي صل و سلم دائما أبدا