تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
نہ کچھ اور اسکے سِوا مانگتے ہیں
اندھیروں میں ڈوبی ہوئی زندگی ہے
اے نورِ مجسم ضیاء مانگتے ہیں
حشر میں جہاں کوئی پُرساں نہ ہو گا
تیرے نام کا آسرا مانگتے ہیں
چھُٹے نہ کہیں کملی والے کا دامن
خدا سے یہی اِک دعا مانگتے ہیں
اگر جیتے جی پہنچ جائیں مدینے
تو واپس نہ آئیں قضا مانگتے ہیں
تیری دید بن اور جینا ہے مشکل
تیرے پاس رہنا سدا مانگتے ہیں
تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
حالیہ پوسٹیں
- یا محمد نورِ مجسم یا حبیبی یا مولائی
- چھائے غم کے بادل کالے
- شورِ مہِ نَو سن کر تجھ تک میں دَواں آیا
- بھر دو جھولی میری یا محمد
- یہ کہتی تھی گھر گھر میں جا کر حلیمہ
- نارِ دوزخ کو چمن کردے بہارِ عارض
- نہ کلیم کا تصور نہ خیالِ طور سینا
- نبی اللہ نبی اللہ جپدے رہوو
- جا زندگی مدینے سے جھونکے ہوا کے لا
- یقیناً منبعِ خوفِ خدا صِدِّیقِ اکبر ہیں
- یا نبی نظری کرم فرمانا ، یا نبی نظر کرم فرمانا ،
- پھر کرم ہو گیا میں مدینے چلا
- خطا کار ہوں با خدا مانتا ہوں
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
- قربان میں اُن کی بخشش کے مقصد بھی زباں پر آیا نہیں
- کون ہو مسند نشیں خاکِ مدینہ چھوڑ کر
- گزرے جس راہ سے وہ سیدِ والا ہو کر
- زہے عزت و اعتلائے محمد
- تم بات کرو ہونہ ملاقات کرو ہو