خدا کی قسم آپ جیسا حسیں
ابھی چشمِ عالم نے دیکھا نہیں
دیارِ نبی کے نظارے نہ پوچھو
چھلک جائے میری نظر نہ کہیں
کسی اور جانب میں دیکھوں گا کیا
میری راہ تم میری منزل تمھی
کرم مجھ پہ آقا کا اتنا ہوا
کسی اور در پر نہ جھکی جبیں
کہاں کر سکا ہوں میں مدحت بیاں
جو باتیں تھی دل میں وہ دل میں رہیں
خدا کی قسم آپ جیسا حسیں
حالیہ پوسٹیں
- اک خواب سناواں
- سرور کہوں کہ مالک و مولیٰ کہوں تجھے
- عشقِ مولیٰ میں ہو خوں بار کنارِ دامن
- جب سے ان کی گلی کا گدا ہو گیا
- کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
- نظر اک چمن سے دوچار ہے نہ چمن چمن بھی نثار ہے
- میں تو پنجتن کا غلام ہوں میں مرید خیرالانام ہوں
- نبی اللہ نبی اللہ جپدے رہوو
- گزرے جس راہ سے وہ سیدِ والا ہو کر
- خطا کار ہوں با خدا مانتا ہوں
- بارہ ربیع الاول كے دن ابرِ بہارا چھائے
- سرور انبیاء کی ہے محفل سجی
- تیری رحمتوں کا دریا سر عام چل رہا ہے
- حلقے میں رسولوں کے وہ ماہِ مدنی ہے
- جو نور بار ہوا آفتابِ حسنِ ملیح
- سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا
- دل میں ہو یاد تری گوشۂ تنہائی ہو
- نارِ دوزخ کو چمن کردے بہارِ عارض
- لبوں پر ذکرِ محبوبِ خدا ہے
- سن لو خدا کے واسطے اپنے گدا کی عرض