دل میں بس گئے یارو طیبہ کے نظارے ہیں
خار اس گلستاں کے پھولوں سے بھی نیارے ہیں
حسنِ خاکِ طیبہ کو کس سے تشبیہ دیویں
ذرے خاکِ طیبہ کے چاند سے بھی پیارے ہیں
طیبہ والے آقا کی شان کیا بتاؤں میں
عرشی انھیں اپنا کہیں ہم کہیں ہمارے ہیں
والضحیٰ کے چہرے کا خود خدا شیدائی ہے
گیسو میرے آقا کے حق نے خود سنوارے ہیں
والضحیٰ یٰسیں طٰحٰہ میرا پیارا کملی والا
حق نے کس محبت سے نام یہ پکارے ہیں
دل میں بس گئے یارو طیبہ کے نظارے ہیں
حالیہ پوسٹیں
- تیری رحمتوں کا دریا سر عام چل رہا ہے
- ہو اگر مدحِ کفِ پا سے منور کاغذ
- جو گزریاں طیبہ نگری وچ او گھڑیاں مینوں بھلدیاں نئیں
- مجھ کو طیبہ میں بلا لو شاہ زمنی
- ساقیا کیوں آج رِندوں پر ہے تو نا مہرباں
- پوچھتے کیا ہو مدینے سے میں کیا لایا ہوں
- خلق کے سرور شافع محشر صلی اللہ علیہ وسلم
- اے سبز گنبد والے منظور دعا کرنا
- سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا
- ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
- میرا تو سب کچھ میرا نبی ہے
- چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط
- جاتے ہیں سوے مدینہ گھر سے ہم
- بیبا عاشقاں دے رِیت تے رواج وکھرے
- یہ دنیا اک سمندر ہے مگر ساحل مدینہ ہے
- سر محشر شفاعت کے طلب گاروں میں ہم بھی ہیں
- سن لو خدا کے واسطے اپنے گدا کی عرض
- Haajiyo Aawo shahenshah ka roza dekho
- کچھ غم نہیں اگرچہ زمانہ ہو بر خلاف
- اُجالی رات ہوگی اور میدانِ قُبا ہوگا