حمد
میرے مولا کرم کر دے
دل نور سے پُر کر دے
جب ذکر کروں تیرا
یہ آنکھ بھی نم کر دے
جنت کی نہیں خواہش
طیبہ میں مجھے گھر دے
ظلمت میں گھرا ہوں میں
اب میری سحر کر دے
قسمت میری جاگ اُٹھے
تُو ایک نظر کر دے
ہاں عازمِ طیبہ تُو
محبؔوب کو پھر کر دے
میرے مولا کرم کر دے
حالیہ پوسٹیں
- نہ پوچھو کہ کیا ہیں ہمارے محمدؐ
- دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
- یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا
- زمین و زماں تمہارے لئے ، مکین و مکاں تمہارے لیے
- خزاں کی شام کو صبحِ بہار تُو نے کیا
- بندہ ملنے کو قریبِ حضرتِ قادر گیا
- دل دیاں گلاں میں سناواں کس نوں
- خراب حال کیا دِل کو پُر ملال کیا
- چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط
- تو ہے وہ غوث کہ ہر غوث ہے شیدا تیرا
- خدا کی قسم آپ جیسا حسیں
- خندہ پیشانی سے ہر صدمہ اُٹھاتے ہیں حسین
- الٰہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہوں
- چار یار نبی دے چار یار حق
- میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں
- جنہاں نوں اے نسبت او تھاواں تے ویکھو
- قصیدۂ معراج
- گزرے جس راہ سے وہ سیدِ والا ہو کر
- صانع نے اِک باغ لگایا
- رشک کیوں نہ کروں انکی قسمت پہ میں