میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں
اپنے آقا کو میں نذر کیا دوں
اب تو آنکھوں میں بھی کچھ نہیں ہے
ورنہ قدموں میں آنکھیں بچھا دوں
میرے آنسو بہت قیمتی ہیں
ان سے وابستہ ہیں ان کی یادیں
ان کی منزل ہے خاکِ مدینہ
یہ گوہر یو ہی کیسے لٹا دوں
بے نگاہی پہ میری نا جائیں
دیداور میرے نزدیک آئیں
میں یہی سے مدینہ دیکھا دوں
دیکھنے کا قرینہ بتا دوں
میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں
حالیہ پوسٹیں
- کہاں میں بندۂ عاجز کہاں حمد و ثنا تیری
- میں کہاں پہنچ گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
- رکتا نہیں ہرگز وہ اِدھر باغِ ارم سے
- حُضور! آپ کا رُتبہ نہ پا سکا کوئی
- مجھ کو طیبہ میں بلا لو شاہ زمنی
- مرا پیمبر عظیم تر ہے
- نہ زر نہ ہی جاہ و حشم کی طلب ہے
- دل رہ گیا ہے احمدِ مختار کی گلی میں
- زمین و زماں تمہارے لئے ، مکین و مکاں تمہارے لیے
- مجھے بھی مدینے بلا میرے مولا کرم کی تجلی دکھا میرے مولا
- مدینہ سامنے ہے بس ابھی پہنچا میں دم بھر میں
- عجب کرم شہ والا تبار کرتے ہیں
- سرور کہوں کہ مالک و مولیٰ کہوں تجھے
- میں بھی روزے رکھوں گا یا اللہ توفیق دے
- رشک کیوں نہ کروں انکی قسمت پہ میں
- عارضِ شمس و قمر سے بھی ہیں انور ایڑیاں
- تیری رحمتوں کا دریا سر عام چل رہا ہے
- ہے کلام ِ الٰہی میں شمس و ضحٰے
- وجہِ تخلیقِ دو عالم، عالم آرا ہو گیا
- اے مدینہ کے تاجدار سلام