نہ کہیں سے دُور ہیں مَنزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے
جسے چاہیں اُس کو نواز دیں یہ درِحبیبﷺ کی بات ہے
جسے چاہا دَر پہ بُلالیا ، جسے چاہا اپنا بنا لیا
یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے ، یہ بڑے نصیب کی بات ہے
وہ خدا نہیں ، بخدا نہیں، مگر وہ خدا سے جُدا نہیں
وہ ہیں کیا مگر وہ کیا نہیں یہ محب حبیبﷺ کی بات ہے
وہ مَچل کے راہ میں رہ گئی ، یہ تڑپ کے دَ ر سے لپٹ گئی
وہ کِسی امیر کی آہ تھی، یہ کِسی غریب کی بات ہے
تُجھے اے منوّرِ بے نوا درِ شاہ سے چاہئیے اور کیا
جو نصیب ہو کبھی سامنا تو بڑے نصیب کی بات ہے.
نہ کہیں سے دُور ہیں مَنزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے
حالیہ پوسٹیں
- طیبہ والا جدوں دا دیار چھٹیا
- تیرا ذکر میری ہے زندگی تیری نعت میری ہے بندگی
- تھی جس کے مقدر میں گدائی ترے در کی
- نہیں خوش بخت محتاجانِ عالم میں کوئی ہم سا
- تیری شان پہ میری جان فدا
- مرحبا عزت و کمالِ حضور
- حُضور! آپ کا رُتبہ نہ پا سکا کوئی
- آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لئے
- زمیں میلی نہیں ہوتی زمن میلا نہیں ہوتا
- اشارے سے چاند چیر دیا چھپے ہوئے خور کو پھیر لیا
- اے مدینہ کے تاجدار سلام
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- ارباب زر کےمنہ سے جب بولتا ہے پیسہ
- سن لو خدا کے واسطے اپنے گدا کی عرض
- دل میں ہو یاد تیری گوشہ تنہائی ہو
- جب سے ان کی گلی کا گدا ہو گیا
- احمد کہُوں ک ہحامدِ یکتا کہُوں تجھے
- نہ آسمان کو یوں سر کشیدہ ہونا تھا
- نارِ دوزخ کو چمن کردے بہارِ عارض
- باغ‘جنت کے ہیں بہرِ مدح خوانِ اہلِ بیت