نہ کہیں سے دُور ہیں مَنزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے
جسے چاہیں اُس کو نواز دیں یہ درِحبیبﷺ کی بات ہے
جسے چاہا دَر پہ بُلالیا ، جسے چاہا اپنا بنا لیا
یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے ، یہ بڑے نصیب کی بات ہے
وہ خدا نہیں ، بخدا نہیں، مگر وہ خدا سے جُدا نہیں
وہ ہیں کیا مگر وہ کیا نہیں یہ محب حبیبﷺ کی بات ہے
وہ مَچل کے راہ میں رہ گئی ، یہ تڑپ کے دَ ر سے لپٹ گئی
وہ کِسی امیر کی آہ تھی، یہ کِسی غریب کی بات ہے
تُجھے اے منوّرِ بے نوا درِ شاہ سے چاہئیے اور کیا
جو نصیب ہو کبھی سامنا تو بڑے نصیب کی بات ہے.
نہ کہیں سے دُور ہیں مَنزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے
حالیہ پوسٹیں
- دل میں ہو یاد تیری گوشہ تنہائی ہو
- خطا کار ہوں با خدا مانتا ہوں
- دل خون کے آنسو روتا ہے اے چارہ گرو کچھ مدد کرو
- رحمتِ حق ہے جلوہ فگن طیبہ کے بازاروں میں
- طیبہ سارے جگ توں جدا سوھنیا
- آج اشک میرے نعت سنائیں تو عجب کیا
- رب کی بخشش مل جائیگی عاصیو اتنا کام کرو
- رشکِ قمر ہوں رنگِ رخِ آفتاب ہوں
- زہے مقدر حضور حق سے سلام آیا پیام آیا
- ہر دم تیری باتیں کرنا اچھا لگتا ہے
- سب سے افضل سب سے اعظم
- خوشبوے دشتِ طیبہ سے بس جائے گر دماغ
- کیا مہکتے ہیں مہکنے والے
- رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ
- مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے
- دمِ حشر جب نہ کسی کو بھی تیرے بن ملے گی امان بھی
- وہی جو خالق جہان کا ہے وہی خدا ہے وہی خدا ہے
- فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ، ہم بھی بے بس نہیں ، بے سہارا نہیں
- سرور کہوں کہ مالک و مولیٰ کہوں تجھے
- ہے کلام ِ الٰہی میں شمس و ضحٰے