کیا جھومتے پھرتے ہیں مے خوار مدینے میں
جی بھر کے پلاتے ہیں سرکار مدینے میں
یہ ارض و سماء یارو اور عرشِ الہٰ یارو
کرتے ہیں غلامی کا اقرار مدینے میں
اے طیبہ تیری عظمت واللہ تیری شوکت
اللہ مدینے میں سرکار مدینے میں
جنت کے طلبگار و چشمِ دل گروا ہو
دکھتے ہیں بہشتوں کے انبار مدینے میں
طیبہ میں بدل جائیں فطرت کے اصول اکثر
کھلتے ہیں جہانوں کے اسرار مدینے میں
کیا جھومتے پھرتے ہیں مے خوار مدینے میں
حالیہ پوسٹیں
- دل میں ہو یاد تیری گوشہ تنہائی ہو
- یا نبی سلام علیک یا رسول سلام علیک
- تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
- کعبے کی رونق کعبے کا منظر، اللہ اکبر اللہ اکبر
- جب درِ مصطفےٰ کا نطارا ہو
- سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا
- دل و نگاہ کی دنیا نئی نئی ہوئی ہے
- جو ہوچکا ہے جو ہوگا حضور جانتے ہیں
- ذکرِ احمد میں گزری جو راتیں حال انکا بتایا نہ جائے
- خدا کے قرب میں جانا حضور جانتے ہیں
- خدا کی قسم آپ جیسا حسیں
- عکسِ روئے مصطفے سے ایسی زیبائی ملی
- میں کہاں اور تیری حمد کا مفہوم کہاں
- اپنی رحمت کے سمندر میں اُتر جانے دے
- تو شمع رسالت ہے عالم تیرا پروانہ
- ہر لب پہ ہے تیری ثنا ، ہر بزم میں چرچا ترا
- آج اشک میرے نعت سنائیں تو عجب کیا
- دعا
- نہ اِترائیں کیوں عاشقانِ محؐمد
- غم ہو گئے بے شمار آقا