رسولوں میں بایں صورت امام المرسلیںﷺ آئے
کہ جیسے بزمِ انجم میں کوئی ماہِ مبیں آئے
خبر کیا ہم کو زاہد راستے میں تجھ پہ کیا گذری
مدینے سے جو ہم نکلے تو فردوسِ بریں آئے
تِری ذاتِ مبارک وجہِ تخلیقِ دو عالم ہے
بہ الفاظِ دگر تیرے لیے دنیا و دیں آئے
سرِ محشر نگاہِ منتظر تو جن کی جویا ہے
ابھی آئے، ابھی آئے، یہیں آئے، یہیں آئے
جو مجنوں بن کے کھو جائے خیالِ دشتِ طیبہ میں
اُسے آغوش میں لینے نہ کیوں خلدِ بریں آئے
زمانہ مبتلا تھا وہم کی پوجا میں سرتاپا
تِرےقدموں کی برکت ہے کہ آدابِ یقیں آئے
امام المرسلیں آئے
حالیہ پوسٹیں
- نہ پوچھو کہ کیا ہیں ہمارے محمدؐ
- جانبِ مغرب وہ چمکا آفتاب
- اے حبِّ وطن ساتھ نہ یوں سوے نجف جا
- نہ زر نہ ہی جاہ و حشم کی طلب ہے
- یادِ وطن ستم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوں
- ہتھ بنھ کے میں ترلے پانواں مینوں سد لو مدینے آقا
- عرشِ حق ہے مسندِ رفعت رسولُ اللہ کی
- گنج بخش فض عالم مظہرِ نور خدا
- اے دینِ حق کے رہبر تم پر سلام ہر دم
- اگر چمکا مقدر خاک پاے رہرواں ہو کر
- مدینے کی ٹھنڈی ہواؤں پہ صدقے
- دل خون کے آنسو روتا ہے اے چارہ گرو کچھ مدد کرو
- تمھارے در سے اٹھوں میں تشنہ زمانہ پوچھے تو کیا کہوں گا
- سنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رسائی ہے
- کس کی مجال ہے کہ وہ حق تیرا ادا کرے
- اپنی نسبت سے میں کچھ نہیں ہوں، اس کرم کی بدولت بڑا ہوں
- شبنم میں شراروں میں گلشن کی بہاروں میں
- نہ آسمان کو یوں سرکشیدہ ہونا تھا
- پاٹ وہ کچھ دَھار یہ کچھ زار ہم
- ہے کلام ِ الٰہی میں شمس و ضحٰے