بس میرا ماہی صل علیٰ
بس میرا ماہی صل علیٰ بس میرا ماہی صل علیٰ
میں کچھ بھی نہیں میں کچھ بھی نہیں
ان کا شیدا رب عُلیٰ ان کا شیدا رب عُلیٰ
میں کچھ بھی نہیں میں کچھ بھی نہیں
طٰہٰ یٰس اور مزمل شاہ مدینہ احمد مرسل
شافعِ عُلیٰ فیِ الروز جزا میں کچھ بھی نہیں میں کچھ بھی نہیں
رحمت عالم بن کر آیا دونوں جہاں پر اس کا سایہ
وہ محبوب ربِ عُلیٰ میں کچھ بھی نہیں میں کچھ بھی نہیں
دونوں عالم صدقہ جن کا صبح شام ہے چرچہ انکا
ورد ملائک صل علیٰ میں کچھ بھی نہیں میں کچھ بھی نہیں
عرش پہ آنے جانے والے رحمت عالم حق کے اجالے
وہ محبوب رب عُلیٰ میں کچھ بھی نہیں میں کچھ بھی نہیں
ان کے کرم کی بات ہے عاصی رب کا کرم اور دنیا راضی
وہ محبوب رب عُلیٰ میں کچھ بھی نہیں میں کچھ بھی نہیں
بس میرا ماہی صل علیٰ
حالیہ پوسٹیں
- انکی مدحت کرتے ہیں
- آکھیں سونہڑے نوں وائے نی جے تیرا گزر ہو وے
- جو گزریاں طیبہ نگری وچ او گھڑیاں مینوں بھلدیاں نئیں
- اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے
- وجہِ تخلیقِ دو عالم، عالم آرا ہو گیا
- سر محشر شفاعت کے طلب گاروں میں ہم بھی ہیں
- معطیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہو گیا
- ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیئے ہیں
- یہ نہ پوچھو ملا ہمیں درِ خیرالورٰی سے کیا
- ادھر بھی نگاہِ کرم یا محمد ! صدا دے رہے ہیں یہ در پر سوالی
- جانبِ مغرب وہ چمکا آفتاب
- سیف الملوک
- سرکار یہ نام تمھارا سب ناموں سے ہے پیارا
- ہو اگر مدحِ کفِ پا سے منور کاغذ
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- گل ا ز رخت آمو ختہ نازک بدنی را بدنی را
- عکسِ روئے مصطفے سے ایسی زیبائی ملی
- دل میں ہو یاد تیری گوشہ تنہائی ہو
- یا رسول الله تیرے در کی فضاؤں کو سلام
- سر سوئے روضہ جھکا پھر تجھ کو کیا