تسکینِ دل و جاں ہیں طیبہ کے نظارے بھی
ٹھنڈک ہیں نگاہوں کی گنبد بھی مینارے بھی
لو نام محؐمد کا مشکل کی آسانی کو
خود بڑھ کے سمیٹیں گے دریا کو کنارے بھی
ہر رنگ میں یکتائی ہر روپ نرالا ہے
ہیں عرش کے والی بھی دنیا کے سہارے بھی
عاصی دمِ آخر جب آقا کو پکاریں ہیں
غنچوں میں بدل جائیں دوزخ کے شرارے بھی
اِک روز مدینے میں ہم پہنچیں گے انشاء اللہ
رنگ لائیں گے آخر کو یہ نیر ہمارے بھی
تسکینِ دل و جاں ہیں طیبہ کے نظارے بھی
حالیہ پوسٹیں
- لو آگئے میداں میں وفادارِ صحابہ
- میرے نبی پیارے نبی ؑ ہے مرتبہ بالا تیرا
- دل دیاں اکھاں کدی کھول تے سہی
- اس کرم کا کروں شکر کیسے ادا جو کرم مجھ پہ میرے نبی کر دیا
- توانائی نہیں صدمہ اُٹھانے کی ذرا باقی
- راتیں بھی مدینے کی باتیں بھی مدینے کی
- خندہ پیشانی سے ہر صدمہ اُٹھاتے ہیں حسین
- الصُّبْحُ بدَا مِنْ طَلْعَتِہ
- میرا تو سب کچھ میرا نبی ہے
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- پڑے مجھ پر نہ کچھ اُفتاد یا غوث
- سُن کملے دِلا جے توں چاھنا ایں وسنا
- گزرے جس راہ سے وہ سیدِ والا ہو کر
- آئینہ بھی آئینے میں منظر بھی اُسی کا
- اج سک متراں دی ودھیری اے
- کس کے جلوے کی جھلک ہے یہ اجالا کیا ہے
- ان کا منگتا ہوں جو منگتا نہیں ہونے دیتے
- رحمتِ حق ہے جلوہ فگن طیبہ کے بازاروں میں
- اے مدینہ کے تاجدار سلام
- مجھ پہ چشمِ کرم اے میرے آقا کرنا