تلو مونی علی ذنب عظیم
ومن یات الذنوب فقد ألاما
بڑے گناہ پر تم مجھ کو ملامت کرتے ہواور جو گناہ کرے گا مستحق ملامت ہوگا۔
ولطف اللّٰہ أوسع أن یضیقا
بمثلی فاسمعوا ودعوا الملا ما
اور اللہ کی مہربانی وسیع تر ہے اس سے کہ تنگ ہومیرے مثل پر تو یہ سنو اور ملامت چھوڑو
دعونی أسئل الرحمان سولی
وانی واثق أن لن أضاما
مجھے رحمت والے خدا سے بھیک مانگنے دواور میں بھروسہ رکھتا ہوں کہ وہ قہر نہ کریگا۔
فلی میثاق ربی أن یتوبا
علیّ وھو عن خُلف تساما
کیونکہ میرے لئے میرے رب کا وعدہ ہے کہ وہ میری توبہ قبول فرمائے گا اور وہ وعدہ خلافی سے پاک ہے۔
الٰھی فاغتفرلی ما مضٰی من
ذنوبی قبل أن ألقی حماما
میرے معبود جو کچھ میرے گناہ ہوچکے مجھے موت ملنے سے پہلے معاف فرمادے۔
وللاخوان والأصحاب أنا
دعونا کافّا فادخلنا السلاما
اور میرے بھائیوں اورساتھیوں کو معاف فرماہم نے تجھ سے دعا کی تو ہم کو جنت میں داخل فرما ۔
وجنّبنا عذاب النّار ربّی
فانّ عذابھا کان غراما
اور ہم کو جہنم کے عذاب سے دور کردے اے میرے رب اس لئے کہ دوزخ کا عذاب سخت ہے۔
وأبق المفتی الشیخ الجلیلا
علی اعدائہ دو ما حساما
اور مفتی شیخ جلیل کو ان کے دشمنوں پہ ہمیشہ تلوار بنائے رکھ۔
ومتّعنا بہ دھرا طویلا
وبارک فیہ وارْفعہ مقاما
اور ان سے ہم کو طویل زمانہ تک فائدہ عطا فرمااور ان کی ذات میں برکت دے اور ان کا مقام بلند فرما۔
بجاہ المصطفے من جاء فینا
رسولا ھاد یا یجلو الظلاما
مصطفے کی عزت کا صدقہ جو ہم میں تشریف لائے ایسے رسول ہادی ہو کر کہ اندھیری کو روشن فرماتے ہیں۔
تلو مونی علی ذنب عظیم
حالیہ پوسٹیں
- شجرہ نصب نبی اکرم محمد صلی اللہ وسلم
- قصیدۂ معراج
- شہنشاہا حبیبا مدینہ دیا خیر منگناہاں میں تیری سرکار چوں
- مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
- اے سبز گنبد والے منظور دعا کرنا
- حبیب خدا کا نظارہ کروں میں دل و جان ان پر نثارا کروں میں
- دل پھر مچل رہا ہے انکی گلی میں جاؤں
- عشقِ مولیٰ میں ہو خوں بار کنارِ دامن
- اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے
- اگر چمکا مقدر خاک پاے رہرواں ہو کر
- دل خون کے آنسو روتا ہے اے چارہ گرو کچھ مدد کرو
- مرحبا عزت و کمالِ حضور
- حالِ دل کس کو سنائیں آپ کے ہوتے ہوئے
- ہم درِ مصطفےٰ دیکھتے رہ گئے
- غم ہو گئے بے شمار آقا
- جس نے مدینے جانڑاں کر لو تیاریاں
- طیبہ سارے جگ توں جدا سوھنیا
- کبھی خزاں کبھی فصلِ بہار دیتا ہے
- میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں
- سر سوئے روضہ جھکا پھر تجھ کو کیا