تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
نہ کچھ اور اسکے سِوا مانگتے ہیں
اندھیروں میں ڈوبی ہوئی زندگی ہے
اے نورِ مجسم ضیاء مانگتے ہیں
حشر میں جہاں کوئی پُرساں نہ ہو گا
تیرے نام کا آسرا مانگتے ہیں
چھُٹے نہ کہیں کملی والے کا دامن
خدا سے یہی اِک دعا مانگتے ہیں
اگر جیتے جی پہنچ جائیں مدینے
تو واپس نہ آئیں قضا مانگتے ہیں
تیری دید بن اور جینا ہے مشکل
تیرے پاس رہنا سدا مانگتے ہیں
تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
حالیہ پوسٹیں
- یہ کس نے پکارا محمد محمد بڑا لطف آیا سویرے سویرے
- میں کہاں اور تیری حمد کا مفہوم کہاں
- بے اجازت اُس طرف نظریں اٹھا سکتا ہے کون
- خلق کے سرور شافع محشر صلی اللہ علیہ وسلم
- افکار کی لذت کیا کہنا جذبات کا عالم کیا کہنا
- یا رب میری سوئی ہوئی تقدیر جگا دے
- اپنی رحمت کے سمندر میں اُتر جانے دے
- نبی سَروَرِ ہر رسول و ولی ہے
- دل و نگاہ کی دنیا نئی نئی ہوئی ہے
- زہے عزت و اعتلائے محمد
- شاہِ کونین کی ہر ادا نور ہے
- جنہاں نوں اے نسبت او تھاواں تے ویکھو
- تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے
- وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
- مجھ پہ بھی میرے آقا گر تیرا کرم ہووے
- خندہ پیشانی سے ہر صدمہ اُٹھاتے ہیں حسین
- بارہ ربیع الاول كے دن ابرِ بہارا چھائے
- سوھنیاں نیں آقا تیرے روضے دیاں جالیاں
- تھی جس کے مقدر میں گدائی ترے در کی
- لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی