تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
نہ کچھ اور اسکے سِوا مانگتے ہیں
اندھیروں میں ڈوبی ہوئی زندگی ہے
اے نورِ مجسم ضیاء مانگتے ہیں
حشر میں جہاں کوئی پُرساں نہ ہو گا
تیرے نام کا آسرا مانگتے ہیں
چھُٹے نہ کہیں کملی والے کا دامن
خدا سے یہی اِک دعا مانگتے ہیں
اگر جیتے جی پہنچ جائیں مدینے
تو واپس نہ آئیں قضا مانگتے ہیں
تیری دید بن اور جینا ہے مشکل
تیرے پاس رہنا سدا مانگتے ہیں
تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
حالیہ پوسٹیں
- وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں
- کہتے ہیں عدی بن مسافر
- گل ا ز رخت آمو ختہ نازک بدنی را بدنی را
- دیس عرب کے چاند سہانے رکھ لو اپنے قدموں میں
- مجھ پہ چشمِ کرم اے میرے آقا کرنا
- آج آئے نبیوں کے سردار مرحبا
- کرے چارہ سازی زیارت کسی کی بھرے زخم دل کے ملاحت کسی کی
- تلو مونی علی ذنب عظیم
- انکے درِ نیاز پر سارا جہاں جھکا ہوا
- کوئی سلیقہ ہے آرزو کا ، نہ بندگی میری بندگی ہے
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- یہ کس نے پکارا محمد محمد بڑا لطف آیا سویرے سویرے
- میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں
- کیوں کرہم اہلِ دل نہ ہوں دیوانۂ رسولؐ
- خدا کی عظمتیں کیا ہیں محمد مصطفی جانیں
- جو ہر شے کی حقیقت ہے جو پنہاں ہے حقیقت میں
- دل دیاں اکھاں کدی کھول تے سہی
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر کا
- یہ سینہ اور یہ دل دوسرا معلوم ہوتا ہے