تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
نہ کچھ اور اسکے سِوا مانگتے ہیں
اندھیروں میں ڈوبی ہوئی زندگی ہے
اے نورِ مجسم ضیاء مانگتے ہیں
حشر میں جہاں کوئی پُرساں نہ ہو گا
تیرے نام کا آسرا مانگتے ہیں
چھُٹے نہ کہیں کملی والے کا دامن
خدا سے یہی اِک دعا مانگتے ہیں
اگر جیتے جی پہنچ جائیں مدینے
تو واپس نہ آئیں قضا مانگتے ہیں
تیری دید بن اور جینا ہے مشکل
تیرے پاس رہنا سدا مانگتے ہیں
تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
حالیہ پوسٹیں
- حلقے میں رسولوں کے وہ ماہِ مدنی ہے
- تیری جالیوں کے نیچے تیری رحمتوں کے سائے
- امام المرسلیں آئے
- خدا کے قرب میں جانا حضور جانتے ہیں
- دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
- وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
- تو سب کا رب سب تیرے گدا
- شورِ مہِ نَو سن کر تجھ تک میں دَواں آیا
- ادھر بھی نگاہِ کرم یا محمد ! صدا دے رہے ہیں یہ در پر سوالی
- طیبہ کی ہے یاد آئی اب اشک بہانے دو
- تنم فرسودہ، جاں پارہ ز ہجراں، یا رسول اللہ ۖ
- تو شمع رسالت ہے عالم تیرا پروانہ
- سن لو خدا کے واسطے اپنے گدا کی عرض
- پڑے مجھ پر نہ کچھ اُفتاد یا غوث
- نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا
- معطیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہو گیا
- یہ کس نے پکارا محمد محمد بڑا لطف آیا سویرے سویرے
- دل دیاں اکھاں کدی کھول تے سہی
- ہے کلام ِ الٰہی میں شمس و ضحٰے
- یہ سینہ اور یہ دل دوسرا معلوم ہوتا ہے