تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
نہ کچھ اور اسکے سِوا مانگتے ہیں
اندھیروں میں ڈوبی ہوئی زندگی ہے
اے نورِ مجسم ضیاء مانگتے ہیں
حشر میں جہاں کوئی پُرساں نہ ہو گا
تیرے نام کا آسرا مانگتے ہیں
چھُٹے نہ کہیں کملی والے کا دامن
خدا سے یہی اِک دعا مانگتے ہیں
اگر جیتے جی پہنچ جائیں مدینے
تو واپس نہ آئیں قضا مانگتے ہیں
تیری دید بن اور جینا ہے مشکل
تیرے پاس رہنا سدا مانگتے ہیں
تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
حالیہ پوسٹیں
- اب تنگی داماں پہ نہ جا اور بھی کچھ مانگ
- فلک کے نظارو زمیں کی بہارو سب عیدیں مناؤ حضور آ گئے ہیں
- اپنی رحمت کے سمندر میں اُتر جانے دے
- گنج بخش فض عالم مظہرِ نور خدا
- وہی جو خالق جہان کا ہے وہی خدا ہے وہی خدا ہے
- خطا کار ہوں با خدا مانتا ہوں
- سر محشر شفاعت کے طلب گاروں میں ہم بھی ہیں
- سرور انبیاء کی ہے محفل سجی
- خوشبوے دشتِ طیبہ سے بس جائے گر دماغ
- ساقیا کیوں آج رِندوں پر ہے تو نا مہرباں
- ترے دَر پہ ساجد ہیں شاہانِ عالم
- مولاي صل و سلم دائما أبدا
- میرے مولا کرم ہو کرم
- طیبہ کی ہے یاد آئی اب اشک بہانے دو
- معطیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہو گیا
- فضلِ رَبّْ العْلیٰ اور کیا چاہیے
- مرحبا عزت و کمالِ حضور
- الٰہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہوں
- کرے چارہ سازی زیارت کسی کی بھرے زخم دل کے ملاحت کسی کی
- سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی