جذب و جنوں میں انکی بابت جانے کیا کیا بول گیا
لفظ نہیں تھے انکے قابل جانے کیا کیا بول گیا
سوہنا ماہی میرا دلبر میرا پیارا میرا رہبر
انکے رتبے سے تھا غافل جانے کیا کیا بول گیا
انکے پاکیزہ دامن میں مَیں بھی چھپنا چاھتا ہوں
بے وقعت جذبے لاحاصل جانے کیا کیا بول گیا
خالقِ کُل کی انکے بارے نعت سرائی دیکھی تو
آنکھیں برسیں بن کے بادل جانے کیا کیا بول گیا
میں حقیر تھا کاہ سے یارو مجھ پہ بھی یہ لطف و کرم
دیکھا جب جدہ کا ساحل جانے کیا کیا بول گیا
میں ذلت کا کیڑا ہو کر کہتا رہا ہوں نعتِ سرور
رب کے بعد وہ سب سے افضل جانے کیا کیا بول گیا
میں عاشق میں پروانہ ہوں وہ محبوب ہیں شمعِ محفل
انکی محبت میں دل پاگل جانے کیا کیا بول گیا
جذب و جنوں میں انکی بابت جانے کیا کیا بول گیا
حالیہ پوسٹیں
- میرے نبی پیارے نبی ؑ ہے مرتبہ بالا تیرا
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- حدودِ طائر سدرہ، حضور جانتے ہیں
- اس کرم کا کروں شکر کیسے ادا جو کرم مجھ پہ میرے نبی کر دیا
- دل رہ گیا ہے احمدِ مختار کی گلی میں
- احمد کہُوں ک ہحامدِ یکتا کہُوں تجھے
- رب کی بخشش مل جائیگی عاصیو اتنا کام کرو
- نارِ دوزخ کو چمن کر دے بہارِ عارض
- یہ کس نے پکارا محمد محمد بڑا لطف آیا سویرے سویرے
- طیبہ کی ہے یاد آئی اب اشک بہانے دو
- تمہارے ذرے کے پرتو ستار ہائے فلک
- کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
- کوئی سلیقہ ہے آرزو کا ، نہ بندگی میری بندگی ہے
- آمنہ بی بی کے گلشن میں آئی ہے تازہ بہار
- عکسِ روئے مصطفے سے ایسی زیبائی ملی
- Haajiyo Aawo shahenshah ka roza dekho
- نصیب آج اپنے جگائے گئے ہیں
- لو مدینے کی تجلی سے لگائے ہوئے ہیں
- سب کچھ ہے خدا،اُس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
- اللہ نے پہنچایا سرکار کے قدموں میں