حالِ دل کس کو سنائیں آپ کے ہوتے ہوئے
کیوں کسی کے در پہ جائیں آپ کے ہوتے ہوئے
میں غلام مصطفی ہوں یہ مری پہچان ہے
غم مجھے کیوں کر ستائیں آپ کے ہوتے ہوئے
شانِ محبوبی دکھائی جائے گی محشر کے دن
کون دیکھے گا خطائیں آپ کے ہوتے ہوئے
زلفِ محبوب خدا لہرائے گی محشر کے دن
خوب یہ کس کی گھٹائیں آپ کے ہوتے ہوئے
میں یہ کیسے مان جاؤں شام کے بازار میں
چھین لے کوئی ردائیں آپ کے ہوتے ہوئے
اپنا جینا اپنا مرنا اب اسی چوکھٹ پہ ہے
ہم کہاں سرکار جائیں آپ کے ہوتے ہوئے
کہہ رہا ہے آپ کا رب “اَنتَ فِیھِم” آپ سے
میں انہیں دوں کیوں سزائیں آپ کے ہوتے ہوئے
یہ تو ہو سکتا نہیں ہے یہ بات ممکن ہی نہیں
میرے گھر میں غم آ جائیں آپ کے ہوتے ہوئے
کون ہے الطاف اپنا حال دل کس سے کہیں
زخم دل کس کو دکھائیں آپ کے ہوتے ہوئے
حالِ دل کس کو سنائیں آپ کے ہوتے ہوئے
حالیہ پوسٹیں
- تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
- الصُّبْحُ بدَا مِنْ طَلْعَتِہ
- پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے
- یہ رحمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
- تیرا ذکر میری ہے زندگی تیری نعت میری ہے بندگی
- اُجالی رات ہوگی اور میدانِ قُبا ہوگا
- ہم تمہارے ہوکے کس کے پاس جائیں
- شاہِ کونین کی ہر ادا نور ہے
- حُضور! آپ کا رُتبہ نہ پا سکا کوئی
- کون ہو مسند نشیں خاکِ مدینہ چھوڑ کر
- واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا
- ہو اگر مدحِ کفِ پا سے منور کاغذ
- بندہ قادر کا بھی قادر بھی ہے عبدالقادر
- زمین و زماں تمہارے لئے ، مکین و مکاں تمہارے لیے
- آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لئے
- راتیں بھی مدینے کی باتیں بھی مدینے کی
- کہاں میں بندۂ عاجز کہاں حمد و ثنا تیری
- ہم درِ مصطفےٰ دیکھتے رہ گئے
- کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
- کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں