حُسن سارے کا سارا مدینے میں ہے
ربِ اعلیٰ کا پیارا مدینے میں ہے
غم کے مارو چلو سوئے طیبہ چلو
غمزدوں کا سہارا مدینے میں ہے
جنتوں کے طلبگارو تم بھی سنو
جنتوں کا نظارا مدینے میں ہے
پوجنے والو شمس و قمر جان لو
دو جہاں کا اجالا مدینے میں ہے
دور رہ کر مدینے سے کیسے جیئیں
کملی والا ہمارا مدینے میں ہے
حُسن سارے کا سارا مدینے میں ہے
حالیہ پوسٹیں
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- سوھنیاں نیں آقا تیرے روضے دیاں جالیاں
- صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا
- قبلہ کا بھی کعبہ رُخِ نیکو نظر آیا
- وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا
- کچھ غم نہیں اگرچہ زمانہ ہو بر خلاف
- طیبہ دیاں گلاں صبح و شام کریے
- کہتے ہیں عدی بن مسافر
- بس میرا ماہی صل علیٰ
- ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے
- تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
- آج آئے نبیوں کے سردار مرحبا
- کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
- معطیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہو گیا
- جو ہوچکا ہے جو ہوگا حضور جانتے ہیں
- حُضور! آپ کا رُتبہ نہ پا سکا کوئی
- یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
- جب درِ مصطفےٰ کا نطارا ہو
- خواجۂ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا
- عاصیوں کو در تمھارا مل گیا