رشک کیوں نہ کروں انکی قسمت پہ میں جو مدینے کی گلیوں میں گھوم آئے ہیں
آگِ دوزخ جلائے گی کیسے انھیں جو طیبہ کے ذروں کو چوم آئے ہیں
ان گلوں کی شگفتہ جبیں کی قسم حق نے جن کو جگہ اپنی رحمت میں دی
اس جہاں کی فضا انکو بھاتی نہیں جو باغِ مدینہ میں گھوم آئے ہیں
جرم ہم نے کئے ظلم ہم نے کئے اپنی جانوں پہ آقا بچا لو ہمیں
سر شرم سے جھکائے ہوئے آئے ہیں تیرے در پہ ہو مغموم آئے ہیں
دو سہارا ہمیں لو خدارا ہمیں اپنے دامنِ رحمت میں شاہِ رُسل
توڑ زنجیریں اپنی ہوس کی یہاں آج شیطان کے محکوم آئے ہیں
جرم اپنے بہت ہیں مگر یا نبی تیرے عفو و کرم کی بھی حد ہی نہیں
اِک کرم کی نظر عاصی محبؔوب پر ہم بدلنے یہاں مقسوم آئے ہیں
رشک کیوں نہ کروں انکی قسمت پہ میں
حالیہ پوسٹیں
- اے حبِّ وطن ساتھ نہ یوں سوے نجف جا
- ہو اگر مدحِ کفِ پا سے منور کاغذ
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- انکے درِ نیاز پر سارا جہاں جھکا ہوا
- مولاي صل و سلم دائما أبدا
- کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
- تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہو گا
- طلسماتِ شب بے اثر کرنے والا
- کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
- خدا کی قسم آپ جیسا حسیں
- اج سک متراں دی ودھیری اے
- دل رہ گیا ہے احمدِ مختار کی گلی میں
- کعبے کے بدر الدجیٰ تم پہ کروڑوں درود
- خزاں سے کوئی طلب نہیں ھے
- تیری شان پہ میری جان فدا
- کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
- یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
- کس کی مجال ہے کہ وہ حق تیرا ادا کرے
- ترا ظہور ہوا چشمِ نور کی رونق
- اول حمد ثناء الہی جو مالک ہر ہر دا