زمین و زماں تمہارے لئے ، مکین و مکاں تمہارے لیے
چنین و چناں تمہارے لئے ، بنے دو جہاں تمہارے لیے
دہن میں زباں تمہارے لئے بدن میں ہے جاں تمہارے لیے
ہم آئے یہاں تمہارے لئے اٹھیں بھی وہاں تمہارے لیے
فرشتے خِدَم رسولِ حشم تمامِ اُمم غلامِ کرم
وجود و عدم حدوث و قدم جہاں میں عیاں تمہارے لیے
کلیم و نجی مسیح و صفی خلیل و رضی رسول و نبی
عتیق و وصی غنی و علی ثنا کی زباں تمہارےلیے
اصالتِ کُل امامتِ کُل سیادتِ کُل امارتِ کُل
حکومتِ کُل ولایتِ کُل خدا کے یہاں تمہارے لیے
تمہاری چمک تمہاری دمک تمہاری جھلک تمہاری مہک
زمین و فلک سماک و سمک میں سکہ نشاں تمہارے لیے
وہ کنزِ نہاں یہ نور فشاں وہ کن سے عیاں یہ بزم فکاں
یہ ہر تن و جاں یہ باغِ جناں یہ سارا سماں تمہارے لیے
ظہورِ نہاں قیامِ جہاں رکوعِ مہاں سجودِ شہاں
نیازیں یہاں نمازیں وہاں یہ کس لئے ہاں تمہارے لیے
یہ شمس و قمر یہ شام و سحر یہ برگ و شجر یہ باغ و ثمر
یہ تیغ و سپر یہ تاج و کمر یہ حکمِ رواں تمہارے لیے
یہ فیض دیے وہ جود کیے کہ نام لیے زمانہ جیے
جہاں نے لئے تمہارے دیے یہ اکرمیاں تمہارے لیے
سحابِ کرم روانہ کیے کہ آبِ نِعَم زمانہ پیے
جو رکھتے تھے ہم وہ چاک سیے یہ سترِ بداں تمہارے لیے
ذنوب فنا عیوب ہبا قلوب صفا خطوب روا
یہ خوب عطا کروب زوا پئے دل و جاں تمہارے لیے
وہ کنز نہاں یہ نور فشاں وہ کُن سے عیاں یہ بزم فکاں
یہ ہر تن و جاں یہ باغ جناں یہ سارا سماں تمہارے لیے
سحاب کرم روا نہ کئے کہ آب نعم زمانہ پئے
جو رکھتے تھے ہم وہ چاک سئے یہ ستر بداں تمہارے لیے
ثنا کا نشاں وہ نور فشاں کہ مہرو شاں بآں ہمہ شاں
بسا یہ کشاں مواکب شاں یہ نام و نشاں تمہارے لیے
عطائے ارب جلائے کرب فیوضِ عجب بغیر طلب
یہ رحمتِ رب ہے کس کے سبب بَرَبِّ جہاں تمہارے لیے
جناں میں چمن ، چمن میں سمن، سمن میں پھبن ، پھبن میں دلہن
سزائے محن پہ ایسے مِنن یہ امن و اماں تمہارے لیے
کمال مہاں جلال شہاں جمال حساں میں تم ہو عیاں
کہ سارے جہاں بروز فکاں ظل آیئنہ ساں تمہارے لیے
خلیل و نجی ، مسیح و صفی سبھی سے کہی کہیں بھی بنی
یہ بے خبری کہ خلق پھری کہاں سے کہاں تمہارے لیے
یہ طور کجا سپہر تو کیا کہ عرش علا بھی دور رہا
جہت سے ورا وصال ملا یہ رفعت شاں تمہارے لیے
بفور صدا سماں یہ بندھا یہ سدررہ اٹھا وہ عرش جھکا
صفوف سما نے سجدہ کیا ہوئی جو اذاں تمہارے لیے
یہ مرحمتیں کہ چکی متیں نچھوڑیں لتیں نہ اپنی گتیں
قصور کریں اور ان سے بھریں قصور جناں تمہارے لیے
فنا بدرت بقا بپرت ز ہر دو جہت بگرد سرت
ہے مرکزیت تمہاری صفت کہ دونوں کماں تمہارے لیے
اشارے سے چاند چیر دیا چھپے ہوئےخور کو پھیر دیا
گئےہوئےدن کو عصر کیا یہ تاب و تواں تمہارے لیے
صبا وہ چلے کہ باغ پھلے وہ پھول کھلے کہ دن ہوں بھلے
لوا کہ تلےثنا میں کھلے رضا کی زباں تمہارے لیے
زمین و زماں تمہارے لئے ، مکین و مکاں تمہارے لیے
حالیہ پوسٹیں
- صدائیں درودوں کی آتی رہیں گی میرا سن کے دل شاد ہوتا رہے گا
- واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا
- رُخ دن ہے یا مہرِ سما ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
- کیا جھومتے پھرتے ہیں مے خوار مدینے میں
- رکتا نہیں ہرگز وہ اِدھر باغِ ارم سے
- یہ دنیا اک سمندر ہے مگر ساحل مدینہ ہے
- اٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ، کہ نور باری حجاب میں ہے
- سوھنیاں نیں آقا تیرے روضے دیاں جالیاں
- میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں
- جب سے ان کی گلی کا گدا ہو گیا
- میں بھی روزے رکھوں گا یا اللہ توفیق دے
- تسکینِ دل و جاں ہیں طیبہ کے نظارے بھی
- یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا
- حالِ دل کس کو سنائیں آپ کے ہوتے ہوئے
- اپنی نسبت سے میں کچھ نہیں ہوں، اس کرم کی بدولت بڑا ہوں
- میں کہاں اور تیری حمد کا مفہوم کہاں
- بے اجازت اُس طرف نظریں اٹھا سکتا ہے کون
- اللہ دے حضور دی اے گل وکھری
- جب درِ مصطفےٰ کا نطارا ہو
- ساقیا کیوں آج رِندوں پر ہے تو نا مہرباں