سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
تیرا نام سن کے تیرا یہ غلام جھومتا ہے
جو ملا مقام جس کو وہ ملا تیرے کرم سے
تو قدم جہاں بھی رکھے وہ مقام جھومتاہے
میں نے جس نماز میں بھی تیرا کر لیا تصور
میرا وہ رکوع و سجدہ وہ قیام جھومتاہے
تیرے نام نے عطا کی میرے نام کو بھی عظمت
تیرا نام ساتھ ہو تو میرا نام جھومتاہے
تیرے مے کدے میں آیا تو کھلا یہ راز طاہرؔ
تیرے ہاتھ سے ملے جو وہی جام جھومتاہے
سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
حالیہ پوسٹیں
- وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں
- لو آگئے میداں میں وفادارِ صحابہ
- تم بات کرو ہونہ ملاقات کرو ہو
- سچ کہواں رب دا جہان بڑا سوھنا اے
- چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط
- چاند تاروں نے پائی ہے جس سے چمک
- چمن دلوں کے کھلانا، حضور جانتے ہیں
- تمھارے در سے اٹھوں میں تشنہ زمانہ پوچھے تو کیا کہوں گا
- چار یار نبی دے چار یار حق
- پل سے اتارو ، راہ گزر کو خبر نہ ہو
- اشارے سے چاند چیر دیا چھپے ہوئے خور کو پھیر لیا
- محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا
- طیبہ نگری کی گلیوں میں دل کی حالت مت پوچھو
- حبیب خدا کا نظارہ کروں میں دل و جان ان پر نثارا کروں میں
- سُن کملے دِلا جے توں چاھنا ایں وسنا
- اے سبز گنبد والے منظور دعا کرنا
- سحابِ رحمتِ باری ہے بارھویں تاریخ
- مدینے کی ٹھنڈی ہواؤں پہ صدقے
- وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا
- مجھے در پہ پھر بلانا مدنی مدینے والے