سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
تیرا نام سن کے تیرا یہ غلام جھومتا ہے
جو ملا مقام جس کو وہ ملا تیرے کرم سے
تو قدم جہاں بھی رکھے وہ مقام جھومتاہے
میں نے جس نماز میں بھی تیرا کر لیا تصور
میرا وہ رکوع و سجدہ وہ قیام جھومتاہے
تیرے نام نے عطا کی میرے نام کو بھی عظمت
تیرا نام ساتھ ہو تو میرا نام جھومتاہے
تیرے مے کدے میں آیا تو کھلا یہ راز طاہرؔ
تیرے ہاتھ سے ملے جو وہی جام جھومتاہے
سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
حالیہ پوسٹیں
- کیونکر نہ میرے دل میں ہو الفت رسول کی
- مثلِ شبّیر کوئی حق کا پرستار تو ہو
- یا محمد نورِ مجسم یا حبیبی یا مولائی
- کیوں کرہم اہلِ دل نہ ہوں دیوانۂ رسولؐ
- دل دیاں گلاں میں سناواں کس نوں
- احمد کہُوں ک ہحامدِ یکتا کہُوں تجھے
- زہے عزت و اعتلائے محمد
- کہتے ہیں عدی بن مسافر
- مجھ پہ بھی میرے آقا گر تیرا کرم ہووے
- مجھے بھی مدینے بلا میرے مولا کرم کی تجلی دکھا میرے مولا
- ترا ظہور ہوا چشمِ نور کی رونق
- یا نبی نظری کرم فرمانا ، یا نبی نظر کرم فرمانا ،
- سر سوئے روضہ جھکا پھر تجھ کو کیا
- رب کی بخشش مل جائیگی عاصیو اتنا کام کرو
- نہ کہیں سے دُور ہیں مَنزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے
- سحابِ رحمتِ باری ہے بارھویں تاریخ
- رُبا عیات
- سچ کہواں رب دا جہان بڑا سوھنا اے
- صانع نے اِک باغ لگایا
- خاکِ طیبہ کی اگر دل میں ہو وقعت محفوظ