سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
تیرا نام سن کے تیرا یہ غلام جھومتا ہے
جو ملا مقام جس کو وہ ملا تیرے کرم سے
تو قدم جہاں بھی رکھے وہ مقام جھومتاہے
میں نے جس نماز میں بھی تیرا کر لیا تصور
میرا وہ رکوع و سجدہ وہ قیام جھومتاہے
تیرے نام نے عطا کی میرے نام کو بھی عظمت
تیرا نام ساتھ ہو تو میرا نام جھومتاہے
تیرے مے کدے میں آیا تو کھلا یہ راز طاہرؔ
تیرے ہاتھ سے ملے جو وہی جام جھومتاہے
سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
حالیہ پوسٹیں
- یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
- شاہِ کونین کی ہر ادا نور ہے
- تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
- گل ا ز رخت آمو ختہ نازک بدنی را بدنی را
- کہاں میں بندۂ عاجز کہاں حمد و ثنا تیری
- تو شمع رسالت ہے عالم تیرا پروانہ
- حُسن سارے کا سارا مدینے میں ہے
- تیری شان پہ میری جان فدا
- جذب و جنوں میں انکی بابت جانے کیا کیا بول گیا
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- سرور انبیاء کی ہے محفل سجی
- اے دینِ حق کے رہبر تم پر سلام ہر دم
- سلام ائے صبحِ کعبہ السلام ائے شامِ بت خانہ
- خراب حال کیا دِل کو پُر ملال کیا
- تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہو گا
- اول حمد ثناء الہی جو مالک ہر ہر دا
- خندہ پیشانی سے ہر صدمہ اُٹھاتے ہیں حسین
- اُجالی رات ہوگی اور میدانِ قُبا ہوگا
- جتنا مرے خدا کو ہے میرا نبی عزیز
- الٰہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہوں