محمدﷺ بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدِمناف بن قْصَی بن کلاِب بن مْرّہ بن کعب بن لوََی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدْرِکہ بن الیاس بنْ مضرَ بن نزار بن معد بن سنان بن عود بن حمیسہ بن سلامان بن عوس بن بوَض بن قموال بن ا’بئی بن عوام بن ناشد بن حِزا بن بلداش بن یدلاف بن تابخ بن جاحم بن ناحش بن ماخی بن عادی بن ابکر بن عبید بن ادعا بن حمدان بن سمبر بن یثربی بن یحزن بن یلحن بن عِرعَوَہ بن عاذی بن ذیشان بن عِیثر بن افناد بن اِیحام بن مْکَثّر بن ناحث بن ذاریح بن سمی بن وازی بن عوض بن عرام بن حیدار بن اسمٰعیؑ ل بن ابراہؑ یم بن تارخ بن ناحور بن سروش بن راعو بن فاحش بن عابر بن شالخ بن ارفخشار بن سام بن نوؑ ح بن لامخ بن متوشالح بن ادرؑ یس بن یرد بن ملحل ایل بن کنعان بن آنوش بن شیؑ س بن آدؑ م
شجرہ نصب نبی اکرم محمد صلی اللہ وسلم
حالیہ پوسٹیں
- پاٹ وہ کچھ دَھار یہ کچھ زار ہم
- اے عشقِ نبی میرے دل میں بھی سما جانا
- بندہ ملنے کو قریبِ حضرتِ قادر گیا
- کیا مہکتے ہیں مہکنے والے
- حالِ دل کس کو سنائیں آپ کے ہوتے ہوئے
- ذاتِ والا پہ بار بار درود
- ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیئے ہیں
- تلو مونی علی ذنب عظیم
- تو ہے وہ غوث کہ ہر غوث ہے شیدا تیرا
- دشتِ مدینہ کی ہے عجب پُر بہار صبح
- آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لئے
- لحد میں عشقِ رُخِ شہ کا داغ لے کے چلے
- حُسن سارے کا سارا مدینے میں ہے
- جاتے ہیں سوے مدینہ گھر سے ہم
- تیری شان پہ میری جان فدا
- ترا ظہور ہوا چشمِ نور کی رونق
- یادِ وطن ستم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوں
- تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
- نہ آسمان کو یوں سر کشیدہ ہونا تھا
- رکتا نہیں ہرگز وہ اِدھر باغِ ارم سے